سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف ژی جیانگ صوبے کے شہر ہانگژو میں اپنا سرکاری پروگرام مکمل کرنے کے بعد بیجنگ پہنچ گئے، جہاں ان کا استقبال چین کے وزیر ماحولیات ہوانگ رون چیو نے کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہانگژو میں تیسرے پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کی افتتاحی تقریب کی صدارت کی، جس میں چارجنگ انفراسٹرکچر، بیٹری انرجی اسٹوریج، سولر ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل شعبوں میں تعاون پر خصوصی توجہ دی گئی۔
دورے کے دوران وزیراعظم نے ژی جیانگ کی صوبائی قیادت اور مختلف معروف چینی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے شینگ ہوا نینگ یوان کے جی کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ایگنس سیو سے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان میں شمسی توانائی کے فروغ کیلئے حکومتی پالیسیوں سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے سی اے ٹی ایل کے ایگزیکٹو صدر آسکر لوؤ سے ملاقات میں جدید بیٹری ٹیکنالوجی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور صاف توانائی کے منصوبوں پر گفتگو کی۔
اسٹارچارج گروپ کی چیئرپرسن ڈین وے شاؤ سے ملاقات میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر اور اسمارٹ موبیلیٹی سسٹمز میں تعاون پر بات چیت ہوئی جبکہ شیوژینگ فارماسیوٹیکل گروپ کے صدر ژن یوان سے ملاقات میں دواسازی، صحت کے شعبے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع زیر بحث آئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے علی بابا ہیڈکوارٹرز کا بھی دورہ کیا جہاں ایگزیکٹو چیئرمین جو سائی نے ان کا استقبال کیا۔
ملاقاتوں کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے، نئی فیکٹریوں کے قیام اور موجودہ صنعتی منصوبوں کی توسیع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
بیجنگ میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف چین کے صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی چیانگ اور دیگر اعلیٰ چینی حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں سی پیک فیز ٹو، تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے فروغ پر گفتگو ہوگی۔
وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔