ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارتی اداکار کا اسلام قبول کرنےکے بعد پہلی بار دل کو چھونے والا  انکشاف

بھارتی اداکار کا اسلام قبول کرنےکے بعد پہلی بار دل کو چھونے والا  انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بھارت کی تامل فلم انڈسٹری کے اداکار  جئے  اسلام قبول کرنے کے فیصلے کے بعد پہلی بار  کھل کر  کہا ہے  کہ  انہیں مساجد میں ایسی برابری،سکون اور احترام ملا جس نے انکی زندگی کا نظریہ بدل دیا۔مسجد میں پہلی بار  محسوس کیا کہ ’’یہاں سب برابر ہیں‘‘۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق تامل اداکار جئے نے ایک حالیہ انٹرویو میں اسلام قبول کرنے کے اپنے فیصلے پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہیں مساجد میں وہ احترام اور برابری محسوس ہوئی جو انہیں کہیں اور نہیں ملی۔ اداکار نے کہا کہ انہوں نے2011 میں اسلام کی پیروی شروع کی تھی اور یہ فیصلہ ان کے کریئر کے زوال یا ذاتی بحران سے جڑا نہیں تھا۔ جئے کے مطابق، مختلف مذاہب پر عمل کرنے کے بعد وہ روحانی سکون کی تلاش میں تھے، لیکن بعض مندروں میں پیش آنے والے تجربات نے انہیں مایوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد میں پہلی بار انہوں نے محسوس کیا کہ ’’یہاں سب برابر ہیں ‘‘۔
 اداکار جئےجنہیں کبھی تامل سنیما کی اگلی بڑی امید سمجھا جاتا تھا، نے حالیہ دنوں میں اپنے کریئر کے بجائے ذاتی اور روحانی زندگی سے متعلق انکشافات کی وجہ سے دوبارہ توجہ حاصل کی ہے۔ اداکار نے ایک نئے انٹرویو میں اسلام قبول کرنے کے اپنے فیصلے پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مساجد میں ایسی برابری، سکون اور احترام ملا جس نے ان کی زندگی کا نظریہ بدل دیا۔ جئے نے2002میں’’بھگوتی‘‘ کے ذریعے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا، جس میں انہوں نے تامل ناڈو کے موجودہ وزیر اعلیٰ وجے کے چھوٹے بھائی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد وہ ’’چنئی600028‘‘، ’’سبرامنیاپورم‘‘، ’’گوا‘‘ اور اناگیم اپوتم‘‘ جیسی فلموں میں نمایاں اداکاری کرتے نظر آئے۔جئے حال ہی میں ’’سوتنتیرا ونیل‘‘ میں نظر آئے، جس کی ہدایت کاری بابو وجے نے کی تھی۔

اگرچہ ان کے ابتدائی کیریئر کو کافی امید افزا سمجھا گیا، لیکن بعد کے برسوں میں ان کی فلموں کی ناکامی اور غیر مستقل انتخاب کے باعث ان کا گراف نیچے چلا گیا۔ اسی دوران ان کے مذہب تبدیل کرنے سے متعلق افواہیں بھی سامنے آئیں، جنہیں ابتدا میں انہوں نے مسترد کیا، مگر2019میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ کئی برسوں سے اسلام پر عمل کر رہے ہیں۔ اب ایک تازہ انٹرویو میں جئے نے بتایا کہ انہوں نے 2011 میں اسلام کی پیروی شروع کی تھی اور یہ فیصلہ محض روحانی سکون اور ذاتی تجربات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سبری مالا کے لیے مالا پہنی، پھر جیسس مالا بھی پہنی اور مختلف مذاہب کی عبادات کو اپنانے کی کوشش کی۔ میں سمجھتا تھا کہ سب راستے اچھے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ بعض مندروں میں کچھ ایسے تجربات ہوئے جنہوں نے مجھے اندر سے مایوس کر دیا۔‘‘ اداکار نے وضاحت کی کہ وہ ایک مرتبہ مسجد گئے جہاں انہیں پہلی بار حقیقی برابری کا احساس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ سب لوگ ایک قطار میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ سب جانتے تھے کہ میں ایک اداکار ہوں، لیکن مسجد کے اندر کسی نے مجھ سے بات نہیں کی۔ باہر آنے کے بعد بھی سب نے نہایت شائستگی سے گفتگو کی۔ کسی نے تصویر لینے کی کوشش نہیں کی۔ تب میں نے محسوس کیا کہ یہاں سب برابر ہیں۔

اداکارجئے کے مطابق، مسجد کے ماحول نے انہیں روحانی سکون دیا اور انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ شہرت، طاقت یا دولت وہاں کوئی معنی نہیں رکھتی۔انہوں نے کہا کہ ’’وہاں صرف خدا سب سے بڑا ہے۔ کوئی آپ کو دھکا نہیں دیتا، کوئی جلدی نہیں کرواتا۔ آپ جتنا چاہیں عبادت کر سکتے ہیں۔ یہ میرے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔‘‘ جئے نے مزید کہا کہ اسلام کی پیروی شروع کرنے کے بعد ان کی شخصیت اور سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مذہب تبدیل کرنا ان کے کریئر کے اتار چڑھاؤ سے جڑا ہوا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ذاتی روحانی سفر تھا۔
تامل اداکار نے2019 میں ایک انٹرویو میں یہ بھی بتایا تھا کہ انکے اہل خانہ نے ان کے فیصلے کو مثبت انداز میں قبول کیا۔ ان کے مطابق، گھر والوں نے کہا کہ ’’جو شخص پہلے کسی خدا کی عبادت نہیں کرتا تھا، وہ اب کم از کم کسی خدا کی عبادت تو کر رہا ہے‘‘۔ جئے نے اس وقت یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ اگرچہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے، لیکن وہ ابھی تک اپنا نام تبدیل کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کر سکے۔