ماہ رمضان میں شہریوں کو لاپرواہی نے ہسپتالوں تک پہنچا دیا


علی فراز بھٹی :رمضان میں مسلمانوں پر روزے فرض ہیں، سموسے پکوڑے نہیں۔ پرہیز کرنا بھی ضروی ہے۔ پہلے آٹھ روزوں میں ہی بدہضمی اور ہیضہ کے مریضوں کی تعداد بڑ گئی۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:پانڈو سٹریٹ شبیہ ذوالجناح

ماہ رمضان کے آتے ہی چٹ پٹے، تلے ہوئے اور بازاری کھانوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ شہری سحری و افطاری کے اوقات میں پراٹھے، سموسے ، پکوڑے، سمیت دیگر تیل میں تلی ہوئی چیزوں کے استعمال زیادہ کرنے لگ جاتے ہیں جس کے باعث ہسپتالوں میں ہیضہ اور بد ہضمی کے مریضوں تعداد میں ستر فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق چٹ پٹی اشیاء کھانے کے باعث اب تک مجموی طور پر 8 ہزار سے زائد شہری مختلف ہسپتالوں کا رخ کر چکے ہیں۔ ان میں جناح ہسپتال میں 2ہزار، میو ہسپتال میں 1200، سروسز ہسپتال میں 900، گورنمنٹ نواز شریف یکی گیت ہسپتال میں 700، جنرل ہسپتال میں 600، گنگارام ہسپتال میں 1100 سے زائد مریض آچکے ہیں۔ جبکہ دیگر ہسپتالوں کی بھی صورتحال مختلف نہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ افطار میں کم کھائیں اور تلی ہوئی اور چٹ پٹی چیزوں سے گریز کریں۔

ماہرین صحت کامزید کہنا تھا کہ شہریوں کو چاہیے کہ سحر و افطار میں زیادہ کھانے پینے سے گریز کریں، احتیاط نہ کرنے کی صورت میں انہیں ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑ سکتا ہے۔