ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اوپن مارکیٹ میں سبزیوں، مصالحہ جات اور موسمی پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

اوپن مارکیٹ میں سبزیوں، مصالحہ جات اور موسمی پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

افشاں رضوان: اوپن مارکیٹ میں سبزیوں، سبز مصالحہ جات اور موسمی پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ متعدد اشیاء سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں۔

مارکیٹ سروے کے مطابق پیاز کی سرکاری قیمت 80 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہ 120 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح ٹماٹر کی سرکاری قیمت 125 روپے فی کلو کے مقابلے میں 150 سے 160 روپے فی کلو تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔

سبز مصالحہ جات میں بھی قیمتوں میں نمایاں فرق ریکارڈ کیا گیا۔ چائینہ لہسن کی سرکاری قیمت 325 روپے فی کلو ہے جبکہ بازار میں یہ 420 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ ادرک 300 روپے کے بجائے 350 روپے فی کلو جبکہ سبز مرچ 100 روپے کے مقابلے میں 150 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔

لیموں دیسی کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس کی سرکاری قیمت 130 روپے فی کلو کے مقابلے میں اوپن مارکیٹ میں 230 روپے فی کلو تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ شلجم 50 روپے کے بجائے 70 سے 80 روپے فی کلو جبکہ بھنڈی 100 روپے کے مقابلے میں 150 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔

دیگر سبزیوں میں پالک 25 روپے کی سرکاری قیمت کے مقابلے میں 40 سے 60 روپے فی کلو جبکہ دیسی ٹینڈے 80 روپے کے بجائے 200 روپے فی کلو تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔

موسمی پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سندھڑی آم اول درجے کی سرکاری قیمت 237 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں یہ 350 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ دوسہری آم 250 روپے کے مقابلے میں 300 روپے جبکہ انور رٹول آم 330 روپے کے بجائے 400 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح سفید سیب 250 روپے کے مقابلے میں 280 روپے فی کلو جبکہ کیلے 215 روپے فی درجن کی سرکاری قیمت کے بجائے 250 روپے فی درجن فروخت ہو رہے ہیں۔

مصالحہ جات میں الائچی کی سرکاری قیمت 605 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 780 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

شہریوں نے اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔