وزیردفاع خواجہ آصف سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد گھر جانے کے لئے نکلے تو گاڑی میں بیٹھے کانوں کو ہاتھ کیوں لگا رہے تھے، صحافیوں کی فرمائش کو نظرانداز کر کے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بات کرنے سے معذرت کیوں کر رہے تھے۔
قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس کل پیر کے روز شام کو پرائم منسٹر ہاؤس میں ہوا، اس اجلاس کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف اپنی گاڑی میں واپس روانہ ہوئے تو صحافیوں کی نے ان کی گاڑی کے اطراف آ کر ان سے بات کرنے کی کوشش کی۔ خواجہ آصف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرنے سے معذرت کر لی۔
لیکن انہوں نے مہذب انداز سے نظر انداز کر کے یا کوئی موہوم سا اشارہ کر کے بات کرنے سے معذرت نہیں کی بلکہ کانوں کو ہاتھ لگا کر بات کرنے سے انکار کیا۔
اس دوران فوٹو گرافر نے ان کی تصویر، ویڈیو بنا لی۔ اب یہ تصویر تبصروں کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
اب یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ خواجہ آصٖف کس وجہ سے کانوں کو ہاتھ لگا کر صحٓفیوں سے معافی مانگ رہے تھے۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسرائیل ایران جنگ کے خطے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد جب خواجہ آصف اپنی گاڑی میں واپس روانہ ہوئے تو صحافیوں کی جانب سے بات کرنے کی کوشش کی گئی جس پر خواجہ آصف نے کانوں کا ہاتھ لگا لیے۔
خواجہ آصف نے گزشتہ دنوں "وزیر خارجہ کی جیورسڈکشن" میں جا کر تقریر کر دی تھی اور پیچیدہ زمینی حقائق کو یکسر نطر انداز کر دیا تھا۔ آج انہوں نے صحافیوں کی فرمائش کو نظرانداز تو کیا لیکن اس کے ساتھ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے تصویر بنوا کر نئے سوالات چھوڑ دیئے۔