راحیل حنیف : ورلڈ کپ سیمی فائنل تک رسائی کیسے؟ پاکستان کے لیے اگر مگر کا کھیل شروع ہوگیا ۔
انگلینڈ کے ہاتھوں دو وکٹوں سے شکست کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی مہم دھاگے سے لٹکتی دکھائی دے رہی ہے اور قومی ٹیم آخری چار ٹاپ ٹیموں میں جگہ بنانے کی دوڑ سے تقریباً باہر ہو چکی ہے۔لیکن کرکٹ سمیت کوئی بھی کھیل ہو اس میں میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا۔
پاکستان اب بھی سیمی فائنل تک پہنچ سکتا ہے، تاہم اب اس کی قسمت اپنے ہاتھ میں نہیں بلکہ دیگر ٹیموں کے نتائج پر منحصر ہے۔ گروپ ٹو کی ممکنہ صورتِ حال کچھ یوں بن سکتی ہے جو پاکستان کے لیے امید کی کرن ثابت ہو۔
انگلینڈ:
سری لنکا اور پاکستان کے خلاف مسلسل دو فتوحات کے بعد انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم بن چکی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ان کا میچ اب ان کے لیے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا، تاہم پاکستان کے نقطہ نظر سے بہتر یہی ہوگا کہ انگلینڈ کیویز کو شکست دے تاکہ گرین شرٹس کے لیے سیمی فائنل کی راہ ہموار ہو سکے۔
نیوزی لینڈ
نیوزی لینڈ کو پاکستان کے خلاف میچ بارش کی نذر ہونے کے باعث ایک پوائنٹ ملا۔ اب اسے سری لنکا اور پھر انگلینڈ کا سامنا کرنا ہے۔ سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے کیویز کو دونوں میچ جیتنا ہوں گے۔ ایک فتح اور ایک میچ منسوخ ہونا بھی انہیں آخری چار تک پہنچا سکتا ہے۔
تاہم اگر نیوزی لینڈ ایک میچ جیتے اور ایک ہارے تو پاکستان کے لیے دروازہ کھلا رہ سکتا ہے اور فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہو سکتا ہے۔پاکستان کے لیے مثالی صورتحال یہ ہوگی کہ نیوزی لینڈ اپنے دونوں میچ ہار جائے۔
سری لنکا
انگلینڈ کے ہاتھوں بھاری شکست کے بعد سری لنکا بھی مشکل میں ہے۔ سیمی فائنل میں رسائی کے لیے اسے نیوزی لینڈ اور پاکستان دونوں کے خلاف لازمی کامیابی درکار ہے۔ اگر وہ کسی ایک میچ میں بھی ہار گئے تو ان کی بھی مہم ختم ہو جائے گی۔
پاکستان کے لیے بہتر صورت یہ ہوگی کہ سری لنکا نیوزی لینڈ کو شکست دے لیکن گرین شرٹس کے خلاف ہار جائے۔
پاکستان
نیوزی لینڈ کے خلاف میچ منسوخ ہونے اور انگلینڈ سے شکست کے بعد پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے بلیک کیپس کی لغزش کا انتظار کرنا ہوگا۔پاکستان کو اپنے آخری میچ میں سری لنکا کے خلاف بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کرنا ہوگی تاکہ نیٹ رن ریٹ بہتر ہو سکے۔اگر نیوزی لینڈ اپنے دونوں میچ جیت لیتا ہے تو پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گا۔ اگر نیوزی لینڈ ایک میچ جیتے اور دوسرا بارش کی نذر ہو جائے تب بھی پاکستان باہر ہو جائے گا۔ تاہم اگر نیوزی لینڈ کے دونوں میچ منسوخ ہو جائیں یا ایک منسوخ اور ایک میں شکست ہو تو پاکستان کی امیدیں برقرار رہ سکتی ہیں۔ایسی صورت میں کہ نیوزی لینڈ ایک میچ جیتے اور ایک ہارے تو پاکستان اور کیویز کے پوائنٹس برابر ہو سکتے ہیں اور پھر فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔
اگر پاکستان کا ایک اور میچ بارش کی نذر ہو گیا تو قومی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جائے گی۔تاہم سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ پاکستان کو سری لنکا کے خلاف لازماً کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ فارم، حکمت عملی، ٹیم کمبی نیشن، اوسط کارکردگی کے حامل کپتان اور کمزور کوچنگ سیٹ اپ کے ساتھ پاکستان سری لنکا کو شکست دے پائے گا؟گروپ ٹو کا انجام اسی سوال کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔