ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا اونرشپ پروٹیکشن آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ، وکلاء برادری کا بھرپور خیرمقدم

لاہور ہائیکورٹ کا اونرشپ پروٹیکشن آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ، وکلاء برادری کا بھرپور خیرمقدم
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پنجاب حکومت کے متنازع اونرشپ پروٹیکشن آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کے معاملے پر وکلاء برادری نے عدالتی فیصلے کو آئین اور قانون کی فتح قرار دے دیا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کے 22 دسمبر کے حکم پر پنجاب بار کونسل کی قیادت نے بھرپور اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا ہے، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری محمد اشفاق کہوٹ اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ذبیح اللہ ناگرہ  کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے  کہ اونرشپ پروٹیکشن آرڈیننس بنیادی انسانی حقوق، آئینی تقاضوں اور قانون کی روح سے متصادم ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے بروقت اور جرات مندانہ اقدام کرتے ہوئے ایک ایسے کالے قانون کے نفاذ کو روکا جو عوام کے حقوق سلب کرنے کے مترادف تھا۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذکورہ آرڈیننس دراصل قبضہ مافیا کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی دانستہ کوشش تھی، جس کے ذریعے ضابطہ دیوانی اور قانونِ شہادت کو غیر مؤثر بنانے کی سازش کی گئی۔ وکلاء رہنماؤں کے مطابق اس آرڈیننس کے ذریعے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل  دس سے  سمیت دیگر بنیادی آئینی ضمانتوں کو عملی طور پر معطل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ پنجاب بار کونسل نے واضح کیا کہ وکلاء برادری ابتدا ہی سے اس متنازع آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دیتی آ رہی ہے اور اس کے خلاف ہر آئینی و قانونی فورم پر آواز بلند کی جاتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی جانب سے اس آرڈیننس پر عملدرآمد روکنا عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ پنجاب بار کونسل کونسل کی جانب سے جاری بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے عدالتی حکم پر دیے گئے ردعمل کو نازیبا، غیر آئینی اور ناقابلِ برداشت قرار دیا گیا۔ وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ عدالتی وقار، عدالتی اقدار اور عدلیہ کی آزادی پر کسی بھی قسم کا حملہ وکلاء برادری ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔
پنجاب بار کونسل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وکلاء برادری ہر حال میں عدلیہ کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی اور عدلیہ کی آزادی اور وقار کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر مقابلہ کرے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ عدالتی اختیارات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو آئین پر براہِ راست حملہ تصور کیا جائے گا، جس کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔
آخر میں پنجاب بار کونسل نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ اونرشپ پروٹیکشن آرڈیننس جیسے کالے قانون کو فی الفور واپس لیا جائے تاکہ آئین، قانون اور عوام کے بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Ansa Awais

Content Writer