لاہور تعلیمی بورڈ کےچیئرمین کو حراست میں لینے کاحکم


(سٹی42) پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کی تصدیق نہ ہونے پر  چیف جسٹس نےلاہور تعلیمی بورڈ کےچیئرمین کو حراست میں لینے کا حکم دیا اور  تعاون نہ کرنے پر69 تعلیمی اداروں کے مالکان کو طلب کیا۔

پی آئی  اےاور دیگر ایئرلائنز میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،  چیئرمین پی آئی اے ایئرمارشل ارشد ملک،سربراہ سول ایوی ایشن پیش ڈگریوں کی تصدیق میں تعاون نہ کرنیوالے69تعلیمی اداروں کےمالکان  کوطلب  کرلیا گیا، چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ڈگریوں کی تصدیق کیخلاف ماتحت عدالتوں کےحکم امتناعی تاحکم ثانی معطل کرنے اور  ڈگریوں کی تصدیق میں تعاون نہ کرنے پر تعلیمی اداروں پر  چیف جسٹس برہم ہوگئے۔

عدالت نےلاہور تعلیمی بورڈ کے چئیرمین پروفیسر اسماعیل پر اظہار برہمی کرتے ہو ئے ان کو حراست میں لینے کا حکم دیا،  چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈگریوں کی تصدیق میں تعاون نہ کرنیوالوں کیخلاف کارروائی ہرحال میں کی جائے گی، ان کا کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن تعلیمی ادارے ڈگریوں کی تصدیق میں تعاون نہیں کر رہے ہیں، سول ایوی ایشن پائلٹس اور دیگر متعلقہ سٹاف کی ڈگریاں تصدیق کر رہے ہیں، سول ایوی ایشن حکم امتناعی کے باوجود اپنی انکوائری جاری رکھیں۔

علاوہ ازیں عدالت نےمشکوک ڈگریوں پر7پائلٹس،91کریوکوشوکازنوٹس جاری کردیئے، عدالت نے پائلٹس کی جعلی ڈگریوں پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔