ویب ڈیسک : رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ فرانسس غزہ کے جنگ زدہ شہریوں سے ویڈیو کال پر بات کرتے رہتے تھے، وہ ان کی چھوٹی چھوٹی دلچسپیوں میں بھی گہری دلچسپی لیتے تھے اور ان کی دل جوئی کرنے کے لئے روزانہ بھی کال کرتے تھے۔
غزہ کے جنگ زدہ شہریوں سے ویڈیو کال پر بات کرنا پوپ فرانسس کا روز کا معمول تھا، اس حوالے سے رومن کیتھولک چرچ نے پوپ کی ویڈیو کال پر گفتگو کرنے کے دوران بنائی گئی ایک ویڈیو کلپ بھی جاری کی ہے۔ پوپ فرانسس غزہ کے ہولی فیملی کیتھولک چرچ میں موجود مسیحی برادری سے ویڈیو کال پر بات کرتے تھے۔
وہ اپنے غزن ساتھیوں کا حال احوال پوچھتے تھے، فیملیز میں شامل بچوں سے الگ سے بات کرتے تھے، بچوں کو بچوں کی طرح ہاتھ کی انگلیاں آگے پیچھے ہلاتے ہوئے wave کرتے اور بائی بائی کہتے تھے۔ اپنے بہت کم عمر ساتھیوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں دلچسپی سے شریک ہوتے تھے۔
غزہ کے مسیحیوں نے کہا ہے کہ وہ پوپ کے انتقال سے دل شکستہ ہیں۔ اب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ بے سہارا ہو گئے ہیں۔ پوپ نے تباہ حال غزہ کے لیے امن کی مہم چلائی اور جنگ کے دوران ان کا سہارا بنے۔
پوپ فرانسس کے غزہ کی جنگ کو جینوسائیڈ قرار دینے کے سٹریٹ فارورڈ بیان کو دنیا میں بہت زیادہ توجہ دی گئی تھی اور اس بیان کو لے کر اسرائیل کی حکومت نے پوپ سے ناراضگی کا اظہار کیا لیکن پوپ اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹے بلکہ اسرائیل کی ناراضگی اور احتجاج کے بعد انہوں نے اس بیان کو دہرایا اور اصرار کیا کہ غزہ میں اسرائیل جینوسائیڈ کر رہا ہے۔
پوپ نے جنگ کے دوران بھی یروشلم کا وزٹ کیا، اس ساری جنگ کے دوران غزہ اور فلسطین کے مسیحی خاص طور سے غزن مسلمانوں کے ساتھ جڑے رہے، انہوں نے اپنے ہسپتال کو بے گھر غزن لوگوں کے لئے کھلا رکھا، دوا سے لے کر کھانے تک جو کچھ ہو سکا، سب بے گھر غزن لوگوں کو پیش کرتے رہے۔ اس دوران یرشلم اور فلسطین میں ہر رومن کیتھولک چرچ میں جنگ سے متاثرہ غزن مسلمانوں کے لئے روزانہ دعا ہوتی رہی۔