ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ملزم مقصود عرف سعید کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے شک کا فائدہ دے کر بری کردیا۔ عدالت نے ملزم کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم جاری کردیا۔
جسٹس عہبر گل خان نےملزم مقصود عرف سعید کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہےسماعت کےدوران ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب محمد اخلاق اور مدعی مقدمہ کے وکیل نے استغاثہ کی جانب سے دلائل پیش کیے، تاہم وہ ملزم کے خلاف شواہد کے ذریعے مقدمہ ثابت کرنے کے حوالے سے عدالت کو مطمئن نہ کرسکےعدالت نےقراردیاکہ فوجداری مقدمےمیں استغاثہ پر لازم ہےکہ وہ ملزم کے خلاف الزام کو قابلِ اعتماد اور ٹھوس شواہد سے شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرے،تاہم موجودہ مقدمےمیں استغاثہ یہ معیار پورا کرنےمیں ناکام رہا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ کے شواہد میں موجود تضادات اور خامیاں مقدمے میں معقول شک پیدا کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں ملزم کو شک کا فائدہ دینا اس کا قانونی حق ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد مقصود عرف سعید کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے قتل کے مقدمے میں بری کردیا اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت ختم کردی۔عدالت نے ملزم کے خلاف سزائے موت کی توثیق کے لیے بھجوایا گیا مرڈر ریفرنس بھی مسترد کردیا