ملک اشرف :لاہور ہائیکورٹ نے ڈی آئی جی احمد ناصر عزیز ورک کی پروفارما پروموشن سے متعلق کیس میں عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے اور متفرق درخواست میں عدالت کے بارے میں اعتراضات اٹھانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ڈی آئی جی احمد ناصر عزیز ورک کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے پروفارما پروموشن کے حصول کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔سماعت کے دوران وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ وہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ناصر احمد مرزا سمیت دیگر لاء افسران کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ناصر احمد مرزا کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جواب دینے سے روک دیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ "سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ خود آئے ہوئے ہیں، وہی جواب دیں، آپ کو بولنے کی ضرورت نہیں۔"چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا، "آپ نے آرڈر پڑھا ہے؟" ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انہوں نے آرڈر نہیں پڑھا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ "کیا اسٹیبلشمنٹ کا سیکرٹری عدالتوں سے بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے؟" چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ڈپٹی سیکرٹری عدالت میں موجود ہو اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کمرہ عدالت سے باہر چلے جائیں، ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان نے وضاحت کی کہ وہ ایک ایمرجنسی کے باعث باہر گئے تھے۔اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا، "کیا عدالت میں پیش ہونے سے بھی کوئی زیادہ ایمرجنسی ہوتی ہے؟"سماعت کے دوران عدالت نے متفرق درخواست کے مندرجات کا بھی جائزہ لیا۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کے ایک پیراگراف کو پڑھنے کے لیے کہا اور ریمارکس دیے کہ اس پیراگراف سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ متفرق درخواست عدالت کے خلاف توہین آمیز انداز میں دائر کی گئی۔عدالت نے ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ندیم عباس سے استفسار کیا کہ کیا وہی ڈپٹی سیکرٹری ہیں؟ جواب اثبات میں ملنے پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ متفرق درخواست کس کی ہدایت پر دائر کی گئی۔ڈپٹی سیکرٹری ندیم عباس نے بتایا کہ درخواست ایڈیشنل سیکرٹری کے کہنے پر دائر کی گئی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے متفرق درخواست میں درج ایک عبارت پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کو احساس نہیں کہ آپ نے کیا لکھا ہے۔ آپ نے یہ بات لکھ دی کہ معزز عدالت نے وہ بات لکھ دی جو عدالت کے سامنے کہی نہیں گئی۔"چیف جسٹس نے ڈپٹی سیکرٹری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ "آپ عدالت پر الزام لگا رہے ہیں، کیسے جرات کی یہ بات کرنے کی؟"ڈپٹی سیکرٹری نے وضاحت کی کہ یہ بات جوائنٹ سیکرٹری کے کہنے پر لکھی گئی، جنہوں نے عدالت میں کارروائی میں شرکت کی تھی۔اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ "کیوں نہ جوائنٹ سیکرٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے؟"وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کوتاہی ہوئی ہے، معاف کردیا جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ "کیسے ممکن ہے کہ روسٹرم کی دوسری جانب کھڑے ہونے والوں کی کوتاہی کو معاف نہ کیا جائے اور آپ کی غلط بات کو معاف کردیا جائے؟"چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید ریمارکس دیے کہ "کیا لوگ یہاں عدالتوں میں صرف بیٹھنے کے لیے آتے ہیں؟"عدالت نے وفاقی حکومت کے لاء افسر سے کہا کہ اس معاملے میں عدالت کا بہت وقت ضائع ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیس میں مائنڈ اپلائی نہیں کیا گیا اور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد بھی نہیں کیا گیا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ "آپ کی متفرق درخواست پڑھ کر پتہ چلا کہ آپ کے ذہن میں کیا ہے۔"عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے حوالے سے آئندہ سماعت پر وضاحت طلب کرتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت دس روز کے لیے ملتوی کردی۔