ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چیف جسٹس عالیہ نیلم کا پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار

چیف جسٹس عالیہ نیلم کا پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے حکم امتناعی کے باوجود مدعی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے معاملے پر پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب عبد الکریم کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سابق ایس ایچ او چوہنگ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار میاں محمد جمیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت کے حکم امتناعی کے باوجود اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
سماعت کے دوران ایس پی صدر محمد عبداللہ سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے اور معاملے سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس افسران سے استفسار کیا کہ عدالت میں جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اسے پڑھ کر سنایا جائے۔ ایس پی صدر محمد عبداللہ نے رپورٹ پڑھنے کی متعدد مرتبہ کوشش کی، تاہم وہ اسے درست طور پر پڑھ نہ سکے۔پولیس رپورٹ کے غیر واضح فونٹ پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے بھی سخت ریمارکس دیے۔ چیف جسٹس نے کہا، "میں عینک کے باوجود نہیں پڑھ سکی، آپ لوگوں کی اس طرح کی مبہم اور مدھم فائلیں پڑھ پڑھ کر نظر کمزور ہوئی۔"
،چیف جسٹس نے پولیس افسر سے استفسار کیا کہ "یہ فونٹ کس رولز کے تحت بنایا گیا ہے؟"عدالت نے ایس پی صدر محمد عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ اور وضاحت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پولیس کی مجموعی کارکردگی پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے، "پورے پنجاب کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے۔"عدالت نے حکم امتناعی کے باوجود مدعی میاں محمد جمیل کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کے معاملے پر متعلقہ پولیس افسران سے جواب طلب کیا۔
،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر آئی جی پنجاب عبد الکریم کو کل ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کی طلبی کے بعد کیس کی مزید سماعت  24 ستمبر تک ملتوی کردی۔

Ansa Awais

Content Writer