ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مودی کے دیس میں اقلیتوں کو خطرہ ، انڈین تجزیہ نگار اوربھارتی جریدوں نے ظلم کو آشکار کر دیا

مودی کے دیس میں اقلیتوں کو خطرہ ، انڈین تجزیہ نگار اوربھارتی جریدوں نے ظلم کو آشکار کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: مودی کے اقتدار میں اقلیتوں پر حملے معمول بن چکے،مسلمان، عیسائی اور دیگر اقلیتیں مسلسل انتہا پسند ہندوؤں کے نشانے پر،بی جے پی اقتدار میں ہندو انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ،اس حوالے سے بھارتی تجزیہ کار، ڈاکٹر اشوک سوائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انتہا پسند ہندوؤں کے ظلم کو آشکار کر دیا ۔

 ڈاکٹر اشوک سوائن کے مطابق ریاست اڑیسہ کےضلع ملکانگیری میں عیسائی برادری پر مہلک ہتھیاروں سے بہیمانہ حملے کئے ہیں۔ ہندوتوا غنڈوں کا عیسائی برادری پر بہیمانہ حملہ، 28 افراد شدید زخمی، مودی کے بھارت میں کوئی محفوظ نہیں۔

 حملہ آوروں نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا، پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

 اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی حملے بی جے پی کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں جبکہ مودی سرکار سے انصاف کی کوئی امید باقی نہیں۔

 اس حوالے سے بھارتی جریدے نیوز ریل ایشیا کی تحقیقاتی ٹیموں نے عیسائی برادری کی قتل و غارت کے حوالے سے بھی ہوشربا انکشافات کئے ہیں۔

 تحقیقات کے مطابق ریاست اڑیسہ کے اضلاع نابرانگپور، گجپتی اور بالاسور میں عیسائی برادری تدفین کے بنیادی حق سے محروم ہے۔

 مارچ سے اپریل 2025 کے دوران تین فیکٹ فائنڈنگ ٹیموں نے ریاست اڑیسہ کے تین اضلاع میں عیسائیوں پر بڑھتے مظالم کی تصدیق کی۔

 ضلع نابرانگپور میں 2022 سے 2025 تک عیسائیوں پر حملوں کے 8سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے،عیسائی خاندانوں کو اپنے مرحومین کی تدفین سے روکا گیا۔

 ضلع نابرانگپور میں عیسائی نوجوان کی تدفین کے بعد لاش کی چوری، ماں اور بہن پر وحشیانہ تشدد کر کے گھر سے نکال دیا گیا۔

 18 دسمبر 2024 کو بالاسور میں عیسائی نوجوان کی تدفین روکی گئی،ضلع گجپتی میں 22 مارچ 2025 کو جوبا کیتھولک چرچ پر پولیس  نے دھاوا بول دیا۔

 خواتین اور بچیوں پر حملہ، دو پادریوں کو پاکستانی کہہ کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ضلع گجپتی میں پولیس نے پادری کا کندھا توڑ دیا، خواتین کی چادریں پھاڑ دیں۔

 بھارتی جریدے کے مطابق عیسائی مذہبی علامات کی بے حرمتی کی گئی،دیگر متعدد دیہاتوں میں مسیحیوں کو گاؤں کے قبرستان میں تدفین سے روکا گیا۔

  جنگلوں میں لاشیں دفنانے پر مجبور کیا گیا،بھارت میں اقلیتیں جبر کا شکار ہیں جبکہ ریاستی مشینری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

 متعدد بار شکایات کے باوجود کسی اہلکار کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی جبکہ مقامی اخبارات نے عیسائیوں کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی خبریں شائع کیں۔

 تین نسلوں سے مسیحی برادری کو اب "غیر روایتی" قرار دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 بھارتی جریدے کرسچینٹی ٹوڈے نے ریاست اڑیسہ میں عیسائیوں کے خلاف بدترین تشدد کو آشکار کیا۔

 ضلع نابرانگپور میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے انکشاف کیا کہ پولیس اہلکار اقلیتوں پر حملوں میں ملوث ہو کر مظالم میں کردار ادا کرتے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق: قبائلی عیسائیوں پر حملوں میں فرقہ وارانہ تعصب اور ذات پات پر مبنی ذہنیت ریاستی اداروں میں سرایت کر چکی ہے۔

 مودی سرکار کے دور میں انصاف دفن، قانون ہندو انتہاپسندوں کا محافظ بن گیا،بھارت میں مذہبی آزادی محض دکھاوا، اقلیتیں ریاستی ظلم کی زد میں ہیں۔

 جریدے کی طرف سے کہا گیا کہ مودی سرکار کے دور میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی مکمل خطرے میں جبکہ مودی اپنی جھوٹی تشہیر میں مصروف ہے۔