ویب ڈیسک: بھارت میں جاری نیٹ پیپر لیک معاملے میں شروع ہونے والے طلبہ کے احتجاج اور پھر ان کے خلاف تشدد کی کارروائیوں سے پورے ملک میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ۔ بالی ووڈ کی اداکارہ شبانہ اعظمی سے لے کر کنیکا سدانند اور پرکاش راج تک جہاں احتجاجی جگہ جنتر منتر پہنچے تھے، اور اب مایہ ناز اداکار نصیرالدین شاہ ، کمل ہاسن اور اداکارہ عالیہ بھٹ نے بھی طلبہ کے خلاف حکومت کے جارحانہ رویے پر شدید تنقید کی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ لہ رپورٹ کے مطابق طلبہ کیساتھ مارپیٹ اور لاٹھی چارج پر نصیرالدین شاہ نہ صرف غصے سے پھٹ پڑے بلکہ اپنی بات رکھتے ہوئے آبدیدہ بھی ہو گئے۔ 76سالہ اداکار نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر نم آنکھوں کے ساتھ ایک ویڈیو شیئرکیا۔ انہوں نے طلبہ پر حملہ کرنے والوں کو ’غنڈوں سے بھی بدتر‘ قرار دیا۔ ویڈیو میں نصیرالدین شاہ آپ سب سے دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ایک جاہل اس ملک کی رہنمائی کرے گا، تو اس کا دل یہی چاہے گا کہ پورا ملک بھی اسی کی طرح جاہل، ناسمجھ، نااہل اور بے رحم بن جائے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’اداکاری کے دو الگ الگ کورس (نیشنل اسکول آف ڈراما اور پونے فلم انسٹی ٹیوٹ) مکمل کرنے کے باوجود میں نے اداکاری کے بارے میں سب سے زیادہ جو کچھ سیکھا، وہ ان بچوں سے سیکھا جنہیں سکھانے کی میں نے کوشش کی ہے۔ میری پوری ہمدردی ان کے ساتھ ہے۔ میں ہر سانس کے ساتھ انہیں ہزاروں دعائیں دیتا ہوں اور ہر ٹیچرز ڈے پر انہیں سلام کرتا ہوں۔ انہی کی وجہ سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یہ میرے اور ہم سب کے استاد ہیں۔‘نصیرالدین شاہ آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں ’’اس وقت میرا دل بھی بھرا ہوا ہے اور میں غصے سے کھول بھی رہا ہوں، یہ دیکھ کر کہ ہمارے بچوں کے ساتھ ان غنڈوں کے ہاتھوں کس طرح ظلم کیا جا رہا ہے، جو مجھے امریکہ کے ایجنٹوں کی یاد دلاتے ہیں، چہروں پر نقاب پہنے ہوئے، ہاتھوں میں ڈنڈے لئے ہوئے‘‘۔ان غنڈوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’کبھی اپنے بچوں کے بارے میں بھی سوچا کرو اور یہ بھی سوچو کہ تمہارا انجام بھی ایک دن ضرور تمہارے سامنے آئے گا۔‘‘ پھر وہ مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہیں ’’ان تمام بچوں سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمت نہ ہاریں۔ بہت سے لوگوں کی ہمدردی آپ کے ساتھ ہے۔ بہت سے لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ لڑتے رہیں۔ مجھے ہمارے ملک کی نوجوان نسل سے امید رہی ہے اور اب وہ امید مزید روشن ہو گئی ہے۔ آپ لوگ اپنی لڑائی لڑتے رہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں‘‘۔
اداکار، راجیہ سبھا رکن اور مکل نیدھی میئم پارٹی کے سربراہ کمل ہاسن نے جاری کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں ہونے والے طلبہ احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب ملک کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا، طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور سماجی کارکن سونم وانگچک سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل بھی کی۔
انہوں نے ایکس پر ایک تفصیلی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی آواز کو پہلے ہی سن لیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہ ہونے کے باعث صورتحال سنگین ہو گئی۔ کمل ہاسن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہمیں اس وقت سن لینا چاہیے تھا جب ایک بچہ رو رہا تھا، لیکن ہم نے اس وقت تک انتظار کیا جب بہت سے بچے اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ ایسا نظام جہاں کوچنگ، تعلیم کی جگہ لے لے، بے چینی، تجسس کی جگہ لے لے اور جرم، میرٹ کی جگہ لے لے، وہ نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔ ایک قوم اس وقت ناکام ہو جاتی ہے جب اس کے بچوں کا استقبال جوابوں کے بجائے رکاوٹوں اور لاٹھیوں سے کیا جائے۔ کمل ہاسن نے اپنی پوسٹ میں #CJPProtest کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا اور احتجاج میں شریک طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
We should have listened when one child cried.
— Kamal Haasan (@ikamalhaasan) July 23, 2026
Instead, we waited until far too many of our children died.
A system where coaching replaces learning, anxiety replaces curiosity, and criminality replaces merit is rotten.
A nation has failed when its children are met with…
بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ نے ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی ہمت اور ثابت قدمی انہیں عاجز کر دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تحریک ’’طلبہ کی، طلبہ کیلئے‘‘ ہے اور اسکا مقصد تعلیم میں شفافیت اور انصاف کا مطالبہ ہے۔
بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ نے جاری طلبہ احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز کو سننا ضروری ہے اور ہر طالب علم ایک ایسے تعلیمی نظام کا حق دار ہے جو انصاف، شفافیت اور اعتماد پر مبنی ہو۔ ان کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بالی ووڈ پر اس معاملے میں خاموش رہنے کے الزامات لگائے جا رہے تھے اور متعدد فنکار یکے بعد دیگرے طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق عالیہ بھٹ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں طلبہ کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے لکھا کہ ’’یہ طلبہ کی تحریک ہے، طلبہ کے لیے۔ ان کی بہادری مجھے عاجز کر دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان بہتر مستقبل کیلئےآواز اٹھا رہے ہیں اور انکی بات سننا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کا نظام ایسا ہونا چاہیے جس پر ہر طالب علم مکمل اعتماد کر سکے۔ انہوں نےاپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا بنیادی حصہ ہے اور نوجوانوں کے جائز خدشات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں اور متعلقہ حکام کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے طلبہ کا اعتماد بحال ہو اور مستقبل میں اس نوعیت کے تنازعات سے بچا جا سکے۔
بالی ووڈ اداکاروں کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ دنوں میں کئی معروف شخصیات طلبہ کی حمایت میں سامنے آ چکے ہیں۔ سلمان خان، پریتی زنٹا، آر مادھون، سونو سود، ویر داس، دیا مرزا، سوہا علی خان اور دیگر فنکار بھی مختلف انداز میں طلبہ کے مطالبات اور تعلیمی اصلاحات کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کے مختلف شہروں، جن میں دہلی، ممبئی، بنگلورو، چنئی، حیدرآباد اور پٹنہ شامل ہیں، طلبہ احتجاج کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔ گزشتہ چند روز میں فلمی دنیا کی متعدد شخصیات بھی احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں سامنے آئی ہیں اور تعلیمی نظام میں شفافیت اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔