ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غزہ جنگ بندی کی نئی تجاویز پر حماس کا جواب

 Hamas Israel ceasefire talks,
کیپشن:    دوحہ میں حماس اور اسرائیل کے نمائندے یرغمالیوں کی واپسی کے عوض جنگ بندی کے سوال پر شطرنج کھیل رہے ہیں، اس دوران غزہ میں بچوں کی غذائیت کی کمی سے اموات کی خبریں دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رہی ہیں، لیکن یہ تشویش غالباً صرف دنیا کو ہی ہے، جنگ  کے دونوں فریق اس تشویش کا شکار دکھائی نہیں دیتے۔  غزہ میں جنگ 7 اکتوبر  2023 کو حماس کے اسرائیل کے اندر گھس کر قتل عام اور بڑے پیمانہ پر شہریوں کے اغوا کے بعد شروع ہوئی تھی، اس جنگ میں اب تک اٹھاون ہزار کے لگ بھگ انسان مارے جا چکے ہیں جن میں خود حماس کے بیس ہزار سے زیادہ کارکن اور اسرائیل کے سینکڑوں فوجی بھی شامل ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی42:  فلسطینی ذرائع نے بتایا ہے کہ حماس نے غزہ میں جنگ بندی کی تازہ تجویز پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
دوحہ میں جاری مذاکرات سے واقف دو فلسطینی ذرائع کے مطابق حماس نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی اسرائیلی تجویز پر اپنا ردعمل پیش کر دیا ہے۔

ایک ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ حماس کے  جواب میں امداد کے غزہ میں داخلے سے متعلق شقوں میں ترامیم، ان علاقوں کے نقشے جہاں سے حماس کی شرطوں کے مطابق  اسرائیلی فوج کو واپس جانا چاہیے اور تنازعہ کے مستقل خاتمے کی ضمانتیں شامل ہیں۔

اسرائیل کی حکومت کی جانب سے دوحہ مین آنے والے حماس کے ردعمل پر اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا تاہم بادی النظر میں حماس کا ردعمل اب بھی وہی ہے جس کے سبب ٹرمپ کے دو ہفتے میں جنگ بندی کے اعلان کو تین ہفتے گزرنے کے باوجود  دوحہ مین حماس اور اسرائیل  کے نمائندے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کے نزدیک تک نہیں پہنچ سکے۔