ویب ڈیسک:میٹا نے 3600 ملازمین کی برطرفی کے بعد اعلیٰ افسروں کی تنخواہ 200 فیصد بڑھا دی
ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے3600 ملازمین کی برطرفی کے ایک ہفتے بعد اپنے اعلیٰ افسران کی بونس رقم دوگنی کر کے تنخواہ 200 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کردیا۔ میٹا کی جانب سے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، کمپنی نے اپنے ایگزیکٹو افسران کے بونس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ نئے بونس سسٹم کے تحت، میٹا کے چیف فنانشل آفیسر سوسن لی،چیف پروڈکٹ آفیسر کرسٹوفر کاکس، چیف آپریٹنگ آفیسر خاویئر اولیوان،اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر اینڈریو بوسورتھ کو 200 فیصد تک اضافی رقم ملے گی جو 2023 میں دیئے گئے 75 فیصد بونس سے کہیں زیادہ ہے۔
میٹا کی جانب سے بونس بڑھانے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ کمپنی ایمازون، مائیکروسافٹ اورایپل جیسی دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ SEC رپورٹ کے مطابق،میٹا کے 2024 کے بونس دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں 15فیصدکی حد سے کم تھے،لیکن اب اضافے کے بعد وہ 50 ویں فیصدی حد تک پہنچ جائیں گے۔
بونس میں اضافے کا اعلان اس وقت کیا گیا جب میٹا نے گزشتہ ہفتے 3,600 ملازمین کو برطرف کیا، جو اس کی کل 72,000 ورک فورس کا 5 فیصد بنتے ہیں ، کمپنی کے مطابق برطرفی کا مقصد "کم کارکردگی دکھانے والے ملازمین" کو نکالنا ہے،اس کے علاوہ میٹا نے اپنے ملازمین کے سالانہ اسٹاک آپشنز میں 10 فیصد کمی کابھی فیصلہ کیا ہے، جس سے کمپنی کے دیگر ملازمین کی مراعات میں مزید کمی ہوگی۔
میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اس بونس پالیسی کا حصہ نہیں ہیں،تاہم، وہ 2023 میں 24.4 ملین ڈالر کی دیگر مراعات حاصل کر چکے ہیں، جن میں سیکیورٹی اخراجات اور نجی جہازوں کا استعمال شامل ہے۔