ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اہم پیشرفت ,اداکار ساجد حسن کا بیٹا گرفتار

مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اہم پیشرفت ,اداکار ساجد حسن کا بیٹا گرفتار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں نئی اہم پیشرفت نے پاکستانی شوبز انڈسٹری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، تفتیشی ٹیم نے ڈیفنس کے مختلف علاقوں میں آپریشن کرتے ہوئے مشہور ٹی وی اداکار ساجد حسن کے بیٹے سمیت 4 نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کی خریدوفروخت کرنے اور استعمال کرنے کے الزام میں ان نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جس میں معروف اداکار ساجد حسن کا بیٹا بھی شامل ہے۔ اداکار ساجد حسن کے بیٹے سے منشیات بھی برآمد ہوئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کی خریدوفروخت کرنے اور استعمال کرنیوالوں کیخلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔زیرحراست نوجوانوں سے مصطفیٰ اور ارمغان کے حوالے سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور اس حوالے سے فیملی کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس میں یہ پیش رفت ایک اہم موڑ ہے اور امید ہے کہ اس سے مقدمے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔

ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا۔

بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔

تفتیشی حکام کے مطابق مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی، لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے، لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی جس سے انٹرپول کے ذریعے رابطہ کیا جارہا ہے، کیس کے لیے لڑکی کا بیان ضروری ہے۔