سٹی42: فلسطین کے علاقہ غزہ میں حماس کی قید میں دس سال گزارنے کے بعد رہا ہونے والے یرغمالی شیری ہشام السید کی ذہنی اور جسمانی حالت تباہ ہو چکی ہے۔ ہشال السید کے باپ نے حماس کو اپنے تصور سے زیادہ طالم قرار دے دیا۔
رہائی پانے والے یرغمالی ہشام السید کے والد نے اسرائیل کے کان ریڈیو کو بتایا کہ وہ حماس کی تقریباً 10 سال کی قید سے رہائی کے بعد اپنے بیٹے کی خراب ذہنی اور جسمانی حالت سے حیران ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہشام "جذباتی اور علمی طور پر تباہ ہو چکا ہے۔"
شعبان السید کہتے ہیں، ’’اس کی دماغی حالت خراب ہے، وہ بات چیت نہیں کرپاتا، اور ایسا لگتا ہے کہ وہ 10 سال سے ٹارچر کیمپ میں تھا۔‘‘ "ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ حماس اتنے ظالم ہوں گے۔"
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حماس نے دوحہ مین طے ہونے والی ہوسٹیج ڈیل کے پہلے مرحلہ میں اب تک جتنے بھی یرغمالیوں کو رہا کیا، ان کی نمائش کرنے کے لئے خٓص طور سے پروپیگنڈا سٹیج سجائے، حتیٰ کہ لاشوں کی بھی سٹیج پر چڑھا کر نمائشیں کیں۔ لیکن ہفتہ کے روز باقی پانچ یرغمالیوں کے برعکس ہشام السید کو کسی نمائش کے بغیر خاموشی سے ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا۔