پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مستردکامعاملہ، عدالت سے اہم خبر آگئی

(ملک اشرف)سینیٹ انتخابات میں پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنےکے خلاف درخواست پر سماعت ، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ٹربیونل نے پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کےخلاف اپیل بھی مسترد کر دی۔

تفصیل کے مطابق جسٹس شاہد وحید نےبطور الیکشن ٹربیونل لیگی امیدوار پرویز رشید کی درخواست پر سماعت کی، لیگی رہنماء پرویز رشید اپنے وکلاء اعظم نذیر تارڑ ، خالد اسحاق کے ہمراہ پیش ہوئے، وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ اور الیکشن کمیشن کے وکلاء بھی پیش ہوئے،عدالتی حکم پر پنجاب ہاؤس اور الیکشن کمیشن کا ریکارڈ پیش کیا گیا۔

پرویز رشید کی جانب سے خالد اسحاق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے سینٹ انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی نادہندہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کر دیئے، ریٹرننگ افسر کے فیصلے میں 96 لاکھ روپے کا نادہندہ ہونے کو جواز بنایا گیا ہے، پنجاب ہائوس کی جانب سے 2019ء میں واجب الادا رقم کا کوئی نوٹس بھی موصول نہیں ہوا تھا، واجب الادا رقم کی ادائیگی کیلئے ریٹرننگ آفیسر کو بھی درخواست دی مگر مسترد کر دی گئی، ریٹرننگ افسر کو کراس چیک کے ذریعے رقم ادا کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی مگر موقف تسلیم نہ کیا گیا۔پرویز آج بھی واجبات ادا کرنے کو تیار ہیں یہی بات ریٹرننگ آفیسر کے روبرو موقف لیا تھا، اگر نقد رقم ادا کرنی ہے تو پرویز رشیدایک گھنٹے میں رقم جمع کروا دیتے ہیں۔

استدعا ہے کہ پنجاب ہائوس کی واجب الادا رقم جمع کروانے۔اور ریٹرننگ افسر کو درخواستگزار کے کاغذات نامزدگی منظور کر کے امیدوارں کی حتمی فہرست میں نام شامل کرنے کا حکم دیا جائے، جسٹس شاہد وحید نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ سے گزشتہ بھی پوچھا تھا کہ آپ نے کہیں بھی انکار نہیں کیا کہ پنجاب ہائوس کا کمرہ آپ کے پاس نہیں تھا،، خالد اسحاق ایڈووکیٹ نے جواب دیاسیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے 2011ء سے 2018ء تک کا آڈٹ کر کے پرویز رشید کے خلاف واجبات نکالے گئے ہیں، پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کرنیوالے رانا مدثر عمر کی طرف سے شہزاد شوکت ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

موقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے پرویز رشید کا موقف تسلیم کیا اور واجبات ادا کرنے کیلئے انہیں 24 گھنٹے دیئے، متعلقہ محکمہ کے افسران کو طلب کروا کر کہنا چاہتے ہیں کہ اگر واجبات بنتے ہیں تو پرویز رشید دے دیتے ہیں، کراس چیک کے ذریعے رقم جمع کروانے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، نیک نیتی ظاہر کرنے کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ پرویز رشید پے آرڈر جمع کرواتے، پرویز رشید کہتے کہ یہ رقم میرے اکائونٹ سے نکل چکی ہے اور محکمہ کے اکائونٹ میں جمع کر لی جائے۔

جسٹس شاہد وحید نے بغیر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ پرویز رشید چیک کے ذریعے اپنے اوپر ایک اور جرم کا الزام لینا چاہتے ہیں؟ شہزاد شوکت ایڈوکیٹ نے کہا نہیں سر! یہ صرف کسی بھی طریقے سے کاغذات نامزدگی منظور کروانا چاہتے ہیں، جسٹس ارشاد وحید نے استفسار کیا رقم کہاں جمع ہونی چاہئے تھی؟شہزاد شوکت ایڈوکیٹ نے جواب دیا رقم پنجاب ہائوس کمپٹرولر کے پاس جمع ہونی چاہئے تھی یا بنک میں جمع ہونی چاہئے تھی۔

جسٹس شاہد وحید نے کمپٹرولر پنجاب ہائوس سے استفسار کیا کہآپ کہاں تھے اس دن جس دن پرویز رشید نے رقم جمع کروانی تھی، کمپٹرولر پنجاب ہائوس نے جواب دیا سر ! میں بلڈ پریشر کا مریض ہوں، اس وقت ہسپتال داخل تھا۔میرا دفتر کھلا تھا اور عملہ بھی موجود تھا مگر کسی نے بھی واجبات جمع کروانے کیلئے میرے ساتھ کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا، جسٹس شاہد وحید نے کہا پرویز رشید کو ریکوری کیلئے بھجوایا گیا نوٹس بھی 2018ء میں ہی جاری ہوا ہے، شہزاد شوکت ایڈوکیٹ نے جواب دیا سپریم کورٹ نے عطاء الحق قاسمی کیس میں پرویز رشید سے بھی ریکوری کا حکم دیا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاجب ہم کسی ہوٹل میں جاتے ہیں، پرویز رشید نے ڈکلیریشن حلف پر دیا ہے اور پنجاب ہائوس کے واجبات کا ذکر ہی نہیں کیا,الیکشن ٹربیونل نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد پرویز رشید کی درخواست خارج کردی، پرویز رشید نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ کس جرم کی سزا ملی ہے،میں یہ جرم بار بار کرتا رہوں گا۔