ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

قتل کیس ،عدالت نےفریقین کے وکلاء کو طلب کرلیا

قتل کیس ،عدالت نےفریقین کے وکلاء کو طلب کرلیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : قتل  کے ملزم کی درخواست ضمانت کیس میں سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا ، ڈی آئی جی عمران کشور سمیت دیگر پولیس افسران   لاہور ہائیکورٹ پیش ،عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت کیس میں فریقین کے وکلاء کو 29 اپریل کو دلائل کے لئے طلب کرلیا .

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ  عالیہ نیلم نے قتل کے مقدمہ میں نامزد ملزم فیضان شوکت کی درخواستِ ضمانت پر سماعت  کی ، سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا، ڈی آئی جی عمران کشور اور دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اخلاق سلہری بھی سرکاری وکیل کے طور پر موجود تھے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مدعیہ مقدمہ کی حاضری سے متعلق استفسار کیا، جس پر سی سی پی او نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مدعیہ عدالت میں موجود ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس سے قبل مدعیہ کی بوگس تعمیل کروائی گئی تھی، جس پر سی سی پی او نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے پر ڈی آئی جی سطح پر انکوائری کی جا چکی ہے۔سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے عدالت کو بتایا کہ مدعیہ نے بیان دیا ہے کہ اس کی تعمیل اصل طریقہ کار کے مطابق کروائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعمیل کروانے والے اہلکار کی کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) بھی حاصل کی گئی ہے جس کے مطابق اس کی لوکیشن مدعیہ کے گھر کے قریب ظاہر ہوتی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ "خاتون کیا کہے گی جب پولیس خود اپنی ہی انکوائری کر رہی ہو"، اور سی ڈی آر کے ذریعے لوکیشن کے تعین پر بھی سوال اٹھایا۔
عدالت نے سی سی پی او کو ہدایت دی کہ اگر وہ چاہیں تو تعمیل کے عمل کی فرانزک جانچ بھی کروا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ آئندہ ایسی پریکٹس ہرگز قابل قبول نہیں ہوگی اور قانون کے مطابق شفاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
بعد ازاں عدالت نے فریقین کے وکلاء کو 29 اپریل کو دلائل کے لیے طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت نے مدعیہ سلمیٰ عرفان کو بھی آئندہ سماعت پر اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہونے کی ہدایت کی۔ اس کیس میں  مدعیہ سلمیٰ عرفان نے یہ مقدمہ 12 جون 2020 کو تھانہ ساؤتھ کینٹ لاہور میں درج کروایا تھا۔

Ansa Awais

Content Writer