سٹی42:رمضان کی آمد سے قبل ہی مہنگائی کا جِن بے قابو ہوگیا۔ سبزیوں،پھلوں اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ گئے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی سبسڈی کے باوجود اشیاء مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں جبکہ اشیا کی قلت دور نہ ہوسکی, فاقہ کشی کا شکار غریب مزید پریشانی کا شکار ہوگئے۔
رمضان المبارک کا مہینہ تو آرہا ہے اپنی برکتیں اور نعمتیں لیکر مگر پاکستان میں عوام کو لوٹنے کی تیاریاں کرلی گئی ہیں۔دکاندار اور ریڑھی بان سبھی سبزیاں اورپھل مہنگے داموں بیچنےلگے ہیں۔
کیلے کا سرکاری ریٹ 67 اور 50 روپے درجن ہے لیکن ریڑھی پر 120 روپے اوردکان پر 100 روپے درجن فروخت ہونے لگے۔ سفید سیب ریڑھی پر 150اور دکان پر 100 روپے کلو بِک رہےہیں۔ خربوزہ 80 سے 100 روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے۔
پھلوں کی طرح سبزیوں کے دام بھی بڑھ گئے۔ ٹماٹر کا سرکاری ریٹ 25 روپےکلوہےلیکن دکان پر 30 روپے کلو بیچا جارہا ہے۔بھینڈی 120 روپے کلوتک پہنچ گئی۔آلو، پیاز، لہسن، ادرک کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں ۔دکاندار کہتے ہیں کیا کریں منڈی سے مال مہنگا مل رہا ہے.
اکبری منڈی اور اوپن مارکیٹ میں سرکاری ریٹ لسٹ کے برعکس دالیں 50 سے 60 روپے تک مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں۔اکبری منڈی میں دال چنا 16،دال مسور 22،دال مونگ 52 روپے مہنگی بیچی جارہی ہیں۔اوپن مارکیٹ میں دالیں 60 روپے تک مہنگی بیچی جارہی ہیں دال چنا 32،دال مسور 56،دال ماش 32،دال مونگ 58 ،بیسن 22 روپے فی کلوگرام بیچاجارہا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی سٹورز پر رمضان پیکج کے اعلان کے باوجود اشیا کی قلت دور نہ ہوسکی، شہری یوٹیلیٹی سٹورز پر کھجوریں، دالوں، مصالحہ جات، درجہ اول کے گھی کوکنگ آئل سمیت دیگر اشیا کی فراہمی نہ ہونے کی شکایت کرتے رہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان آ گیا لیکن یوٹیلیٹی سٹورز پر بنیادی اشیا کی فراہمی ممکن نہ ہوسکی جبکہ حکومت دعووں اور اعلانات کی بجائے یوٹیلیٹی سٹورز پر تمام اشیا کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
ہر جگہ من مانے ریٹ سے شہریوں کی مشکلات بھی بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔شہریوں کاکہناہےکہ حکومت یوٹیلیٹی سٹورزپرتمام اشیاکی فراہمی کو یقینی بنائےتاکہ عوام کو ماہ رمضان میں سہولت مل سکے۔