ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ کےخلاف مقدمہ ۔۔ امریکی نیوز چینلز کوریج پر پابندی کے خلاف ڈٹ گئے

ٹرمپ کےخلاف مقدمہ ۔۔ امریکی نیوز چینلز کوریج پر پابندی کے خلاف ڈٹ گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: courtesy ..France24
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : امریکا کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف امریکہ کے نیوز چینلز نے محاذ آرائی شروع کر دی ہے۔ امریکی نیوز آرگنائزیشن سی این این، ایم ایس ناؤ، اور پولیٹیکو نے ہفتے کے آخر میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوریج سے روکے جانے کے بعد پیر کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق امریکی نیوز  آرگنائزیشن نے الزام لگایا ہے کہ منتخب کرکے پابندی عائد کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جمعہ کے روز پابندی کے اعلان کے بعد صدر دفتر وائٹ ہاؤس نے ان خبر رساں اداروں کی کوریج پر پابندی عائد کردی تھی۔ڈونالڈ ٹرمپ کافی عرصے سے ان صحافیوں کی نیوز کوریج پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن سے وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ یہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم سے متعلق اختیار کا ایک امتحان بھی ہے، جہاں آئین حکومت کو پریس کی آزادی پر پابندی عائد کرنے سے روکتا ہے۔ ان نیوز آرگنائزیشن نے اپنی عرضی میں کہا کہ آئین صدر یا کسی دوسرے سرکاری عہدیدار کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ صرف خبروں کا مواد پسند نہ آنے کی بنیاد پر کسی اطلاع یا قانونی طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر پریس کے پہلی ترمیم سے متعلق اختیار، آزادی اور املاک سے متعلق مفادات سے محروم کر دیں۔
یہاں بات قابل ذکر ہےکہ پہلے وائٹ ہائوس انتظامیہ کی جانب سے امریکی  نیوز چینلز کےصحافیوں کے داخلہ بیج کو غیر فعال کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں تینوں نیوز آرگنائزیشن نے اپنے رپورٹرز کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکے جانے کے 2 دنوں کے بعد مشترکہ طور پر مقدمہ دائر کیا، اس سے ایک روز قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان آرگنائزیشن پر پابندی لگا رہے ہیں، کیوں کہ وہ ان اداروں کی خبروں کو فرضی مانتے ہیں۔ ممنوعہ ٹی وی نیٹ ورک پیر کی صبح وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے بالکل باہر ایک گلی سے رپورٹنگ کر رہے تھے۔ پیر کے روز ہی سی این این کو بھی پول ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا تھا، جنہیں اہم نیوز نیٹ ورک آپس میں شیئر کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے فی الحال مقدمے پر کسی قسم کا تبصرہ یا جواب نہیں دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ‘ پر لکھا تھا کہ وہ اس بات کو اہمیت نہیں دیتے ہیں، جسے وہ پریس کی آزادی کہتے ہیں۔ ٹرمپ نے پوسٹ میں کہا کہ وائٹ ہاؤس پریس کی آزادی کو نشانہ نہیں بنا رہا ہے۔ وہ فرضی خبروں پر حملہ کر رہا ہے، جو ہمارے امریکہ میں کینسر کی طرح پھیل گیا ہے۔ یہ کرپٹ اور مکمل طور پر بے قابو ہے۔ یہ ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اسے اب روکا جانا چاہئے۔

ایس ایم عتیق شاہ بخاری سٹی نیوز نیٹ ورک سے وابستہ سینئر صحافی ہیں جو صحافت کی دنیا میں 25 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔