سٹی42: پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کے فیصلے کے برخلاف بجلی کے بلوں کے ذریعے بجلی ڈیوٹی کی وصولی جاری رکھنے کی تجویز دے دی ہے۔ اس حوالے سے ایک سمری بھی وفاق کو ارسال کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے حالیہ دنوں یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ بجلی کے بلوں میں صوبائی ڈیوٹی شامل نہیں کی جائے گی۔ تاہم، پنجاب حکومت نے اس فیصلے کو مالی اور انتظامی طور پر غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ متبادل نظام سے ڈیوٹی کی مؤثر وصولی ممکن نہیں ہوگی اور اس سے صوبے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ محکمہ خزانہ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں صوبے نے بجلی ڈیوٹی کی مد میں 26.4 ارب روپے جمع کیے، جو کہ ایک اہم آمدنی کا ذریعہ ہے۔
حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ صرف ڈسکوز (بجلی تقسیم کار کمپنیوں) کے ذریعے بلوں سے براہ راست وصولی ہی مؤثر اور قابل عمل طریقہ ہے۔ محکمہ خزانہ اور محکمہ قانون نے بھی محکمہ توانائی کی اس تجویز کی تائید کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر محکمہ توانائی کو وفاقی حکومت سے باضابطہ رابطہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب کابینہ جلد وفاق کو باضابطہ طور پر سفارش کرے گی کہ بجلی ڈیوٹی کی وصولی بدستور بجلی کے بلوں کے ذریعے ہی کی جائے۔