ملک اشرف : چھ سال قبل اغوا ہونے والی خاتون کی بازیابی پولیس کیلئے چیلنج بن گئی، لاہور ہائیکورٹ نے مغویہ کو بازیاب کروانے کا حکم دے رکھا ہے۔
کاہنہ سے چھ سال قبل اغوا ہونیوالی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی کا معاملہ تاحال حل طلب ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے متعدد احکامات کے باوجود پنجاب پولیس مغویہ خاتون کو بازیاب کرانے میں کامیاب نہ ہو سکی،،چیف جسٹس عالیہ نیلم کی عدالت میں سائلہ حمیداں بی بی کی درخواست زیر سماعت ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کی بیٹی فوزیہ بی بی کو 2019 میں تھانہ کاہنہ کی حدود سے اغوا کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ ایک سماعت کے دوران درخواست گزار خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بیٹی کو "جنات اٹھا کر لے گئے"، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اس معاملے پر بارہا پولیس کو بازیابی یقینی بنانے کا حکم دیا، مگر تاحال کوئی پیشرفت سامنے نہیں آسکی۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور عدالت میں پیش ہو چکے ہیں اور انہوں نے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا کی سربراہی میں 9 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ جے آئی ٹی میں اسپیشل برانچ، سی سی ڈی، انویسٹیگیشن، آپریشن اور آئی بی کے افسران شامل ہیں۔ اس کے باوجود مغوی خاتون کا سراغ نہیں مل سکا۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App