دن کو لعن طعن ،رات کو ملاقاتیں،مزے مزے کے لیڈرز،مزے مزے کی باتیں

دن کو لعن طعن ،رات کو ملاقاتیں،مزے مزے کے لیڈرز،مزے مزے کی باتیں

اظہر تھراج |ہماری اپوزیشن جماعتیں مزے مزے کی ہیں،مزے مزے کے نظریات ہیں، اے پی سی میں ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام پر  اتحاد وجود میں آیا ہے،یہ ملکی تاریخ کا چھٹا اپوزیشن کا سیاسی اتحاد ہے،اپوزیشن لیڈرشپ  دن کو اسٹبلشمنٹ پر لعن طعن کرتی ہے تو راتوں کو ملاقاتیں،اپوزیشن کی اے پی سی سے پہلے ایک خفیہ اے پی سی ہوئی ،اس اے پی سی کی میزبانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی ، شہباز شریف ،بلاول ،اپوزیشن رہنما اس میں شریک ہوئے۔اس اے پی سی کے گواہ وزیر ریلوے شیخ رشید ہیں۔کہتے ہیں کہ اپوزیشن رہنمائو ں میں 15 افراد موجود تھے جنہوں نے آرمی چیف کے لیکچرز بھی بڑے انہماک سے سنے۔

اے پی سی اور سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے،اس وقت سیاسی اور عسکری قیادت میں بہترین ورکنگ ریلیشن ہے۔ چاہے وہ سیاسی قیادت حکومت کی ہو یا اپوزیشن کی ۔اپوزیشن کا اجتماع اتحاد بن گیا، نواز شریف  ایک لمبے عرصے بعد خطاب کرنے آئے اور میلہ لوٹ لیا ۔انہوں نے جذباتی تقریر میں دل کی خوب بھڑاس نکالی ۔ نواز شریف نے اسٹیلشمنٹ کو خوب کوسا ،شہباز شریف نے دانتوں میں انگلیاں دبالیں ، مولانا فضل الرحمان نے استعفوں پر زور دیا ۔استعفے دیے جائیں ،ہاں یا نہیں ؟ میں جواب دیں ،پیپلز پارٹی سندھ حکومت سے کبھی بھی مستعفی نہیں ہوگی ،اسی لئے استعفوں کی بات پی ڈی ایم نے ’’کمیٹی ‘‘ کو سونپ دی،پیپلزپارٹی نے اے پی سی میں ہی مولانا فضل الرحمان سے ہاتھ کردیا،مولانا کی تقریر روک دی ،مولانا کی تقریر سنسر کردی ۔ آصف زرداری 10 منٹ کیلئے آئے اور اسٹیبلشمنٹ کیخلاف کوئی بات نہیں کی،انہوں نے اپنی سخت باتیں بلاول سے کہلوا دیں ،اسے کہتے ہیں اچھا سپاہی اور برا سپاہی کا کھیل ۔بہر صورت نواز شریف او رآصف زرداری کےبیانیے میں واضح فرق نظر آیا۔

  اے پی سی کے اعلامیہ اور پلان آف ایکشن سے زیادہ اہم اور موثر نواز شریف کی تقریر تھی، جو جی ٹی روڈ کے بیانیے کی دوسری قسط تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ نوازشریف نے اپنی تقریر میں کس کو چیلنج کیا؟ حکومتی کارکردگی پر نواز شریف کی تنقید کا کیا جواز ہے؟ اے پی سی میں حکومت کےلیے کیا نشانیاں ہیں؟ تقریر کے بعد نواز شریف کے لندن بیٹھنے کا کیا جواز رہا؟ بات تقریروں سے آگے کب جائے گی؟

کہتے ہیں کہ جہاں پر نااہلی کی حکمرانی ہو، وہاں نان ایونٹ ہی ایونٹ بن جاتا ہے۔ اے پی سی کو کامیاب سیاسی ایونٹ بنانے میں حکومتی وزرا اور مشیروں کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے ایسی گرمی دکھائی کہ میڈیا اور عوام کو اس طرف متوجہ کردیا۔ حالانکہ عوام تو ’’بھنگ‘‘ کی کاشت کے بارے میں تدبیریں کررہے تھے، لاکھوں گھروں کےلیے زمین کی  پوزیشن تلاش کررہے تھے، نوکریوں کےلیے ہاتھوں میں درخواستیں پکڑے سرکاری، نجی اداروں کے باہر کھڑے تھے۔ بھلا ہو وزیراعظم کے ترجمانوں کا انہوں نے عوام کو چوکنا کردیا۔

اے پی سی کا اہم ایونٹ نواز شریف کی تقریر تھی۔ انہوں نے موثر چارج شیٹ دی ہے، اس سے چنگھاڑتی ہوئی چارج شیٹ نہیں دے سکتے تھے۔ ایک بات طے ہے کہ نواز شریف کا سیاسی ہیڈ کوارٹر لندن ہی ہوگا۔ عوام کا خیال ہے کہ یہ پاکستان کے دوسرے ’’الطاف بھائی‘‘ بنادیے گئے ہیں۔ وہیں سے گولہ باری کریں گے۔ پاکستان کا المیہ ہے کہ چارج شیٹ دینے والے اور جن کے خلاف چارج شیٹ ہے، ان کی قابلیت سب کے سامنے ہے۔ نواز شریف نے جو نکات اٹھائے وہ صرف پاکستان کی سیاسی قوتوں کےلیے نہیں بلکہ سب کےلیے لمحہ فکریہ ہیں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ آخر حق داروں کے حق پر ڈاکا کیوں ڈالا جاتا ہے؟ بار بار حدیں کیوں عبور کی جاتی ہیں؟

جی ٹی روڈ کے بیانیہ کو نیا موڑ ملا ہے۔ ایک بات تو طے ہوگئی کہ یہ پارٹی ن لیگ ہے اور نواز شریف کے نام پر ہے۔ مفاہمتی بیانیہ ختم ہوگیا اب مزاحمتی بیانیہ چلے گا۔ شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو باپ کا درجہ دیتے ہیں۔ پنڈی کے شیخ صاحب کے دعوے بھی ہوا ہوگئے ہیں۔ ان کی ش لیگ کی باتیں بھی فی الحال دفن ہوگئی ہیں۔ نواز شریف ایک بار پھر اپنی پارٹی بچانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ نواز شریف نے سعودی عرب کا کیس پیش کیا، سی پیک پر بات کی۔

اپوزیشن کی جدوجہد پہلے فیز میں کامیاب ہوگئی ہے۔ ان کا اکٹھا بیٹھنا اور مشترکہ لائحہ عمل دینا مخالف قوتوں کےلیے دردِ سر اور خود اپوزیشن کےلیے کامیابی ہے۔ نواز شریف نے اپنے آپ کو مظلوم اور باقی سب کو ظالم پیش کیا۔ نواز شریف نے اپنے کارکنوں، تاجر طبقہ اور ہم خیال بیوروکریسی کو حوصلہ دیا ہے۔ اب پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کی گورننس کو مشکلات پیش آئیں گی۔

نوٹ:یہ رائٹر کے ذاتی خیالات ہیں ،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ادارہ