ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اب تک چھپن! مودی جی کچھ تو بولئیے

 Narendra Modi, May 6 to May 10 war, Pakistan India Dog Fight, Brahmos, Pakistan Air Force, Indian Air Defence
کیپشن: بھارت کی ایک مؤقر نیوز ویب سائٹ نے  ٹرمپ کے پاکستان سے کہہ کر بھارت کو پکاستانی غضب سے بچانے کے واقعہ کا ایک مرتبہ پھر ذکر کرنے پر اپنی نیوز سٹوری کے ساتھ یہ طنز بھری کیری کیچر پوسٹ جس مین 56 انچ سینہ ہونے کے دعویدار مودی کو ٹرمپ کے آگے جھکتے دکھایا گیا ہے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹٰی42:  "اب تک چھپن!"؛ اس   کرائم سٹوری تھرلی مووی کا نام آج لوگوں کو اس لئے یاد آ رہا ہے کہ کسی نے  پڑوسی ملک کے پرائم منسٹر نریندر مودی کی نام نہاد  46 انچ چیسٹ کے متعلق یہ جملہ چست کیا کہ مودی 56 انچ چھاتی بتاتے ہیں، لیکن ان کی 56 مرتبہ بے عزتی ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے انڈین میڈیا میں جو رپورٹیں شائع ہوئیں ان میں سے ایک ہیڈ لائن یہ بنی: ’56 انچ کا سینہ، 56 بار بے عزتی‘، ٹرمپ کے ہند-پاک جنگ بندی سے متعلق تازہ بیان کے بعد پی ایم مودی پر کانگریس کا طنز"
اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا، ’’جھپی پپی والی خارجہ پالیسی کسی کام تو نہیں آ رہی، الٹا ملک کو نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ کتنا افسوسناک ہے کہ ہماری پالیسیاں ہماری حکومت نہیں، بلکہ امریکہ اور ٹرمپ طے کر رہے ہیں۔‘‘
 
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دیوالی تقریب کے دوران جب ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سے  ہونے والی  بات چیت کا ذکر کیا تو ساتھ ہی یہ بھی دہرایا کہ انہوں نے پاکستان کو بھارت کے ساتھ جنگ بندی کرنے پر رضا مند کیا تھا۔ ٹرمپ نے آج یہ بتایا کہ  ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے لیے انھوں نے ’تجارت‘  کرنے کا بھی عندیہ دیا تھا ۔ 

ٹرمپ واقعی  ہر چند دن بعد بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو سخت شرمندگی سے دوچار کر دیتے ہین جب وہ بھارت کی بری طرح ہاری ہوئی جنگ (چھ مئی سے دس مئی تک بھارت کی مسلط کی ہوئی جنگ) کو بند کروانے کا ذکر کرتے ہیں۔

آج ٹرمپ نے دوبارہ پاکستان کو جنگ بند کرنے پر رضامند کرنے کا ذکر کیا تو بھارت میں  کانگریس کا دعویٰ سامنے آیا  ہے کہ یہ ’56ویں‘ مرتبہ ہے جب ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان  کی  جنگ بندی کا سہرا اپنے سر باندھا ہے۔ اس طنزیہ بیان  کا تعلق پی ایم مودی کے پرانے ’56 انچ کا سینہ‘ والے بیان کے ساتھ ہے۔ اس  نام نہاد  56 انچ سینے کی کبھی پیمائش نہین کی گئی، اہم اس بیان کو  یاد کرواتے ہوئے کانگرس نے کہا،  ’56 انچ کا سینہ، 56 بار بے عزتی‘۔ ساتھ ہی طنزیہ انداز میں ’ایکس‘ ہینڈل پر کی گئی ایک پوسٹ میں ’اب تک 56‘ کیپشن بھی لگایا ہے۔ اس پوسٹ میں ’56‘ لکھا ہوا ہے اور گرافکس کچھ اس انداز میں تیار کیا گیا ہے جس میں ٹرمپ کے سامنے مودی ہاتھ جوڑے اور سر جھکائے ہوئے ہیں۔
 
کانگریس نے طنز سے بھری ایک ویڈیو بھی ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے، جس میں ایک شخص کہتا دکھائی دے رہا ہے کہ ’’مائی فرینڈ  ڈونلڈ  نے اب تک 56 بار کہہ دیا کہ تجارت کی دھمکی دے کر میں نے نریندر مودی سے جنگ بندی کروا دی‘‘

  ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ’’ جسطرح 56،  انچ کے سینہ کا دعویٰ نریندر مودی کرتے ہیں۔ ابھی ہم نے کہا تھا کہ ٹرمپ 56 بار بھی بول دیں گے، اور نریندر مودی کچھ نہیں بولیں گے۔ 56 بار تو ان کا ’جنگ رُکوا دی ابھی تو  پاپا‘ والا پروپیگنڈہ اشتہار بھی نہیں چلا تھا۔ لیکن ٹرمپ نے  (جنگ بندی کے بارے میں)  56 بار کہہ دیا۔‘‘

ماجرا کیا ہے؛ ٹرمپ بولتے ہیں تو مودی کی بےعزتی کیوں ہوتی ہے

یہ یاد کرنا ضروری ہے کہ نریندر مودی نے بھارتی شہریوں پر بڑے جوشیلے پروپیگنڈا کی یلغار کے ساتھ پاکستان کی مسجدوں، مدرسوں اورسویلین مکانات پر 6 مئی اور 7 مئی کی درمیانی رات جارحیت مسلط کی تو پاکستان نے اس رات بھارتی فضائیہ کے 7 فائیٹر جیٹ طیارے گرا دیئے تھے۔ اس ہزیمت کو نریندر مودی کے گودی یدیا نے بھارتی عوام سے چھپایا، پاکستان نے تفصیل کے ساتھ بتایا لیکن آکورڈ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب دو دن کے دوران مزید جارحانہ حرکتیں کرنے کے بعد بھارت نے 9  مئی اور 10 مئی کی درمیانی رات طیارے گرانے کا بدلہ لینے کے لئے پاکستان کی چار ائیر بیسز پر براہ راست میزائل حملے کرنے کی حماقت کی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے اندر ایسی تباہی مچائی کہ بھارتی فوج اور حکومت دونوں کو سانپ سونگھ گیا، اس تباہی کا دائرہ اتنا وسیعتھا کہ ساری دنیا کو پتہ چلا کہ دس مئی کی صبح پانچ بجے سے لے کر آٹھ ساڑھے آٹھ بجے تک بھارت کے ساتھ کیا ہوا؛ سینکڑوں گرڈ سٹیشن جام ہو گئے، سینکڑوں ویب سائتین ہیک ہو گئیں، مصنوعی سیارہ جام ہو گیا اور بھارت کے ائیر ڈیفینس کی دھجیاں اڑانے کے بعد پاکستان نے باہموس میزائل رکھنے کے نصف درجن ڈپو تباہ کئے، نصف درجن وہ ہوائی اڈے اور ائیر سٹرپ تباہ کین جنہیں پاکستان کے خلاف فضائی حملوں میں استعمال کیا جا سکتا تھا، اس پر ہی بس نہین کیا، کشمیر میں درجنوں فوجی چوکیاں تباہ کیں اور  مقبوضہ کشمیر کے اندر گھس کر علاقے پر قبضہ کر کے بیٹھ گئے، دہلی، پنجابم راجستھان، گجرات مین ہر جگہ پاکستانی ڈرون آزادی سے اڑتے دکھائی دیئے اور بھارتی فوج انہیں گرا نہ سکی۔ یہ سب کچھ کرنے کے دوران بھارت کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا، صبح ساڑھے آٹھ بجے کے لگ بھگ پاکستان نے پبلکلی یہ اعلان کیا کہ ہم نے بھارت کو جارحیت کے جواب مین خوب مارا پیتا ہے، اب بھارت اس مار پیٹ کا جواب دینے کی حماقت نہ کرے، ایسی حماقت کی تو ہم اکنامک ٹارگٹس کو نیست و نابود کر دیں گے۔ 

بھارت کی چند گھٹوں میں پتلی ہو چکی حالت نے اسے واشنگٹن مین سفارتی ذرائع کو استعمال کر کے ٹرمپ سے جنگ بندی کرانے کی بھیک مانگنے پر مجبور کیا، ٹرمپ نے پاکستانی حکام سے رابطہ کاری کر کے جنگ رکوا تو دی لیکن تب سے اب تک ہر چوتھے دن ٹرمپ دنیا کو یاد ضرور کرواتے ہیں کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ پاکستان کی جنگ رکوا کر دنیا پر احسان کیا ہے۔  ٹرمپ جب بھی یہ ذکر کرتے ہین بھارت میں نریندر مودی کی نئے سرے سے بےعزتی ہونے لگتی ہے۔
اب سوشل میڈیا پروائرل ہو رہی ویڈیو میں ہندوستانی وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال بھی اٹھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں اینکرنگ کرنے والا شخص کہتا ہے ’’آخر ایسی کیا مجبوری ہے۔  امریکہ کے دباؤ میں نریندر مودی اتنا کیوں جھک رہے ہیں۔  ٹرمپ کبھی جنگ بندی کا اعلان کر دیتا ہے، تو کبھی ہندوستان کے روس سے تیل نہ خریدنے کا اعلان؛  اور اس حوالے سے بھی  وہ سارا ملبہ  یہ کہہ کر کہ نریندر مودی پر ڈال دیتے ہیں کہ مودی نے مجھے یقین دلایا ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔‘‘

Caption اب تک چھپن نانا پاٹیکر کی ایک مقبول کرائم تھرلر سٹوری ہے جس مین انہیں 56 پولیس انکاؤنٹر کرتے بتایا گیا ہے، آج انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا میں اس مقبول فلم کا چرچا نریندری مودی کے 56 انچ چھاتی کا دعویٰ کرنے کے تناظر میں کیا گیا اور فلم کے نام کو سوالیہ نشان کے اضافہ کے ساتھ استعمال کر کے جتلایا گیا کہ کیا مودی کی چھاتی درجنوں مرتبہ بے وعزت ہونے کے بعد بھی،،، " اب تک 56" انچ ہی ہے؟ 

پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’نریندر بیٹھے بٹھائے مبارکباد کے  پیغامات بھیجتے رہتے ہیں، اور ٹرمپ نظر انداز کرتے ہیں۔‘‘
 روس سے تیل کی خریداری معاملہ میں ٹرمپ کے دعووں کو مدنظر رکھتے ہوئے کانگریس نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی  ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ’’ان کی (پی ایم مودی کی) جھپی-پپی والی خارجہ پالیسی کسی کام تو نہیں آ رہی، الٹا ملک کو نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ کتنا افسوسناک معاملہ ہے کہ ہماری پالیسیاں ہماری حکومت نہیں، بلکہ امریکہ اور ٹرمپ طے کر رہے ہیں۔‘‘

ویڈیو کے آخر میں وزیر اعظم  مودی کی خاموشی  کو  دیکھتے ہوئے  ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’اب تو شرم کیجیے مودی جی! کچھ تو بولیے۔‘‘