ویب ڈیسک : پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ کے تیسرے دن کئی دلچسپ لمحات دیکھنے کو ملے لیکن دن کے اختتام پر ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جو شاید بہت سے لوگ نظرانداز کر گئے۔
پاکستان کی دوسری اننگزکے دوران تیسرے دن کی آخری گیند پر پاکستانی بیٹر محمد رضوان نے جنوبی افریقی بولر کیشَو مہاراج کی گیند کو کور کی جانب کھیلا لیکن گیند فیلڈر کے ہاتھ میں گئی۔ رن لینے کا کوئی موقع نہیں تھا، اس لیے رضوان واپس مڑے اور اس دوران ان کا بلا وکٹ کو لگا جس سے بیلز گر گئیں اور وہ پویلین کی جانب واپس جانے لگے۔
ظاہر یہ ہو رہا تھا کہ رضوان نے یہ حرکت غیر ارادی طور پر کی مگر جنوبی افریقا کے وکٹ کیپر نے فوراً ہاتھ اٹھا کر 'ہٹ وکٹ' کی اپیل کر دی۔ اُس وقت امپائر نے ابھی دن ختم ہونے (Stumps)کا اعلان نہیں کیا تھا اور گیند بھی ابھی فیلڈر کے پاس ہی موجود تھی۔ تاہم فیلڈ امپائر نے مسکراتے ہوئے جنوبی افریقا کی ہٹ وکٹ کی اپیل کو مسترد کر دیا اور اسکوائر لیگ امپائر نے بھی ان کے فیصلے کی تائید کی۔
بظاہر جنوبی افریقی کھلاڑیوں کو یہ نہیں بتایا گیا کہ امپائرز نے رضوان کو ناٹ آؤٹ کیوں قرار دیا۔سوشل میڈیا پر بھی واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں صارفین کی جانب سے کہا گیا کہ رضوان ہٹ وکٹ آؤٹ ہوئے پر امپائر نے آؤٹ نہیں دیا۔
رضوان کو ہٹ وکٹ آؤٹ کیوں نہیں دیا گیا؟
عام طور پر امپائرز خود دن ختم ہونے (Stumps) پر وکٹ سے بیلز ہٹاتے ہیں اور کبھی کبھار بیٹرز اپنے ہاتھ سے ایسا کرتے ہیں، مگر تب جب گیند ڈیڈ ہو چکی ہو۔اس واقعے میں چونکہ گیند ابھی فیلڈر کے پاس تھی اور نہ ہی امپائرکی جانب سے اسٹمپس کا اعلان کیا گیا تو، اسی لیے جنوبی افریقا کو لگا کہ ان کی اپیل جائز ہے۔لیکن کرکٹ کے قوانین اس معاملے میں محمد رضوان اور امپائرز کے فیصلے کے حق میں نظر آتے ہیں۔
بیٹر کو کس صورت میں ہٹ وکٹ آؤٹ قرار دیا جا سکتا ہے؟
قانون کے مطابق جب بولر اپنی ڈلیوری اسٹرائیڈ میں داخل ہو چکا ہو (یعنی گیند پھینکنے کے عمل میں ہو) اور اس دوران بیٹر گیند کھیلنے کی تیاری کر رہا ہو یا گیند کھیل رہا ہو اور وہ خود یا اس کا بلا وکٹ کو لگ جائے تو اس صورت میں ہٹ وکٹ آؤٹ قرار دیا جائے گا۔ اگر بیٹر گیند کھیلنے کے فوراً بعد پہلا رن لینے کے لیے دوڑ رہا ہو، اور اسی دوران اسٹمپ کی بیلز گرا دے تو بھی ہٹ وکٹ آؤٹ قرار دیا جائے گا۔اگر بیٹر نے گیند کھیلنے کی کوشش ہی نہ کی ہو لیکن پھر بھی پہلا رن لینے کے لیے دوڑے، اور وکٹ سے ٹکرا جائے تب بھی ہٹ وکٹ آؤٹ ہوگا۔
عام الفاظ میں یہ کہ اگر بیٹر گیند کھیلنے کا عمل مکمل کرلے اور رن لینے کیلئے بھی نہ دوڑے اور وکٹ گرا دے تو اسے ہٹ وکٹ آؤٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اسی لیے محمد رضوان کو آؤٹ نہ دینا بالکل درست فیصلہ تھا۔