ملک اشرف : ہائیکورٹ نے سابقہ رنجش کی بنا پر دو افراد کے قتل کیس میں سزائے موت پانیوالے مجرم محمد بلال کو بری کر دیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی دو مرتبہ پھانسی کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
جسٹس شہرام سرورچوہدری اور جسٹس سرداراکبرعلی ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سزائے موت کے مجرم کی اپیل پر سماعت کی ، عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کیخلاف الزام کو شواہد سے ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ گوجرانوالہ پولیس نے سال 2021 میں محمد تصور اور محمد نواز کے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے میں محمد بلال سمیت دیگر افراد پر قتل کا الزام عائد کیا گیا۔گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوتی، پوسٹمارٹم رپورٹ میں واضح تضادات ہیں، اور وقوعہ کی تفصیلات میں بھی ابہام پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب سرکاری وکیل نے مجرم کی اپیل کی مخالفت کی۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ گواہوں کے بیانات میں تضاد، موقع پر موجودگی کے شواہد کی کمی، اور میڈیکل رپورٹ میں اختلافات کے باعث استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا۔مجرم کو ساڑھے چار سال بعد رہائی نصیب ہوئی۔