ملک اشرف : لاہورہائیکورٹ نے منشیات کے مقدمے میں مجرم کی اپیل خارج کردی، عدالت نے ٹرائل کورٹ کا مجرم شہباز صدیقی کو عمر قید کی سزا دینے کے فیصلے کو برقرار رکھا ۔
جسٹس فاروق حیدر اورجسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ مجرم شہباز صدیقی نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی، جسے عدالت نے شواہد اور دلائل سننے کے بعد مسترد کر دیا۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبدالصمد نے اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مجرم شہباز صدیقی سے 31 کلوگرام چرس برآمد ہوئی تھی۔ یہ مقدمہ تھانہ ڈی ٹائپ کالونی، فیصل آباد میں سال 2021 میں درج کیا گیا تھا۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبدالصمد نے مجرم کی اپیل کی مخالفت میں مؤثر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ “گواہوں کے بیانات سے ملزم سے چرس برآمد ہونا ثابت ہوتا ہے۔دوسری جانب وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کا ریکارڈ گواہوں کی شہادت سے مطابقت نہیں رکھتا، شواہد میں تضاد پایا جاتا ہے۔ عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ نے منشیات کی برآمدگی اور ملزم کی شمولیت کو شواہد کے ذریعے ثابت کیا ہے۔