ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خاتون بازیابی  کیس،آئی جی پنجاب کو 6 نومبر تک کی مہلت

خاتون بازیابی  کیس،آئی جی پنجاب کو 6 نومبر تک کی مہلت
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : ہائیکورٹ میں کاہنہ سے چھ سال قبل لاپتہ ہونیوالی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی کے کیس کی سماعت، آئی جی ڈاکٹر عثمان انور، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا، اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران عدالت پیش ،عدالت نے مغویہ کی بازیابی کیلیے آئی جی کو 6 نومبر تک کی مہلت دے دی ۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سائلہ حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی ،درخواستگزار حمیداں بی بی نے اپنی بیٹی فوزیہ بی بی کی بازیابی کیلئے رجوع کیا تھا، جس کا مقدمہ تھانہ کاہنہ میں 25 مئی 2019 کو درج ہوا۔ مقدمے میں خاتون کے شوہر اور ساس سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آئی جی سے استفسار کیاآپ نے خاتون کو جنات سے بازیاب کروانے کیلئے کیا کیا؟ کیا انسان جن بنے ہوئے ہیں؟آئی جی نے بتایا کہ مغویہ کی بازیابی کیلئے9 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی نگرانی ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کر رہے ہیں۔ ہم نے نادرا، شیلٹر ہومز، ایدھی سینٹرز اور مختلف ہسپتالوں سے ریکارڈ چیک کیا۔نادرا میں مغویہ کا ریکارڈ موجود نہیں، پرانے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آج کے دور میں بھی کسی خاتون کا نادرا ریکارڈ نہ ہونا حیران کن ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ مغویہ کی تینوں بیٹیوں کا فیملی ریکارڈ بھی نادرا میں اپ ڈیٹ کرایا جائے تاکہ مستقبل میں وراثت یا قانونی شناخت کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔عدالت نے آئی جی کو ہدایت کی کہ مغویہ کی بازیابی کیلئے تفتیشی عمل کو تیز کیا جائے۔عدالت نے مزید سماعت 6 نومبر 2025تک ملتوی کر دی۔
 

Ansa Awais

Content Writer