کیپٹن صفدر کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور


( سٹی 42 ) کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی عدالت پیشی، عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر کو جوڈیشل ریمانڈ پر  14 روز کیلئے جیل بھیج دیا۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو آج مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں وکیل کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ کسی کی منشا پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا، 2 سیکشن 16 لاگو کرنے سے پہلے حکومتی ہدایت ضروری ہوتی ہے۔ حکومت نے کیپٹن (ر) صفدر کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، ایک لانگ مارچ نکالا جا رہا اسی بنا پر یہ گرفتاری عمل میں لائی گئی، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف کیس فوری طور پر خارج کیا جائے۔

سرکاری وکیل نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو آج پولیس نے گرفتار کیا ہے، کیپٹن (ر) صفدر  کیخلاف سیریس الزامات اور سزا یافتہ بھی ہیں۔ سرکاری وکیل نے کیپٹن (ر) صفدر کی تقریر کی سی ڈی عدالت میں پیش کی اور کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا آڈیو اور ویڈیو ٹیسٹ ہونا ہے، سرکاری وکیل نے کیپٹن (ر) صفدر کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد کیپٹن (ر) کا جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرتے ہوئے جیل بھیج دیا ہے۔  دوسری جانب کیپٹن صفدر نے ضلع کچہری میں درخواست ضمانت دائر کردی ہے۔

واضح رہے ذرائع کے مطابق گزشتہ رات پولیس نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے داماد  کیپٹن (ر) صفدر کو راوی ٹول پلازہ سے گرفتار کیا جب وہ بھیرہ سے لاہور آ رہے تھے۔ کیپٹن (ر) صفدر کو کارسرکار میں مداخلت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔