سی اے اے نے سٹوڈنٹس پائلٹ لائسنس کا اجراء بحال کردیا

سی اے اے نے سٹوڈنٹس پائلٹ لائسنس کا اجراء بحال کردیا

ائیرپورٹ(سعید احمد سعید) اب طالبعلم بھی جہاز اڑائیں گے، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سٹوڈنٹس پائلٹ لائسنس کا اجراء بحال کردیا، ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی حسن ناصر جامی نے اجراء کی باضابطہ منظوری دیدی۔

ایس پی ایل کے بحال ہونے سے طالبعلم فلائنگ کلب کی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔ ذرائع کے مطابق عالمی ہوا بازی کی تنظیم اکاو نے نئے لائسنس کے اجراء سے متعلق موثر حفاظتی تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس پر ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی حسن ناصر جامی نے سٹوڈنٹس پائلٹس لائسنس سمیت دیگر پائلٹس کے لائسنس کا اجراء عارضی طور پر روک دیا تھا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایس پی ایل کے اجراء کیلئے اکیڈمک، میڈیکل سرٹیفکیٹ، قومی شناختی کارڈ اور سکیورٹی کلیئرنس لازمی قرار دی گئی ہے۔ سی اے اے نے قواعد کے تحت منظوری دیتے ہوئے عمل در آمد کی ہدایت بھی کی ہے، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے لائسنس کے اجراء، امتحانات کے نظام کو شفاف بنانے کیلئے بائیو میٹرک سسٹم کو نادرا سے منسلک کر دیا۔

واضح رہے کہ کوئی بھی پاکستانی نوجوان جو ایوی ایشن کی صنعت میں بطور پائلٹ اپنا پروفیشنل کیریئر شروع کرنا چاہتا ہے تو انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد اس کو سول ایوی ایشن کا وضع کردہ میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے۔طبّی معائنے میں پاس ہونے کے بعد وہ نوجوان فلائنگ اسکول میں داخلہ لینے کا اہل بن جاتا ہے، مرتب کردہ کورس کے مطابق3ماہ تک زمین پر تربیتی عمل شروع کیا جاتا ہے۔

پائلٹ کو ایوی ایشن سے متعلق بنیادی تعلیم کلاس رومز میں دی جاتی ہے جس میں تکنیکی کے علاوہ سیفٹی اور ایوی ایشن قوانین شامل ہوتے ہیں، ان  تین ماہ کی تربیت اور 3 گھنٹے فلائنگ کے بعد پہلا لائسنس مل جاتا ہے جس کو اسٹوڈنٹ پائلٹ لائسنس یا ایس پی ایل کہا جاتا ہے۔