ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرکاری ملازمین کی سینیارٹی کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا بڑا حکم

سرکاری ملازمین کی سینیارٹی کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا بڑا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

امانت گشکوری :وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق  اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سینیارٹی لسٹیں چھپائی نہیں جا سکتیں اور تمام سرکاری محکمے، خود مختار ادارے اور کارپوریشنز اپنی سینیارٹی فہرستیں ویب سائٹس پر جاری کرنے کے پابند ہوں گے۔ 
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاہے کہ سرکاری ملازمین کی سینیارٹی لسٹیں نہیں چھپائی جا سکتیں،تمام فہرستیں ویب سائٹس پر ڈالنا لازمی قراردیاگیاہے۔
جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہاگیاہے کہ تمام سرکاری محکموں، خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کی لسٹیں ہر سال جنوری میں اپ ڈیٹ کی جائیں۔
 آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ ایک ہی بیچ کے ملازمین کی سینیارٹی کا تعین میرٹ لسٹ میں دی گئی میرٹ پوزیشن کے مطابق ہی کیا جانا چاہیے،پہلے آؤ، پہلے پاؤ کا من مانا عنصر پبلک ایڈمنسٹریشن کے منصفانہ نظام کے منافی ہے،سینیارٹی لسٹوں کی معلومات تک رسائی ہر شہری اور ملازم کا آئینی و بنیادی حق ہے،ملازمت کے معاہدے میں لکھی گئی خلاف قانون شرط ملازم کے حقوق ختم نہیں کر سکتی۔ 
وفاقی آئینی عدالت کے مطابق فیصلے کی کاپی فوری طور پر چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو عمل درآمد کیلئے بھیجی جائے،عدالت نے مستقلی کے 7 سال بعد تک سینیارٹی لسٹ جاری نہ کرنے پر پورٹ قاسم اتھارٹی پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ تمام سرکاری نیم سرکاری محکمے نئی بھرتی، ترقی یا مستقلی کے فوراً بعد سینیارٹی لسٹیں ریوائز کرنے کے پابند ہوں گے۔
وفاقی آئینی عدالت نے پائلٹ کیپٹن محمد علی خان کی سینیارٹی سے متعلق اپیل منظور کر لی،وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ غیر قانونی قراردیتے ہوئے  پورٹ قاسم اتھارٹی کی جاری کردہ متنازعہ سینیارٹی لسٹ کالعدم قرار دے دی اور فوری طور پر نئی اور درست سینیارٹی لسٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔پورٹ قاسم اتھارٹی نے میرٹ کے باوجود درخواست گزار کو صرف ایک دن لیٹ جوائن کرنے پر جونیئر کر دیا تھا،عدالت نے فیصلے میں کہاکہ ایک ہی بیچ اور ایک ہی اشتہار سے بھرتی ہونے والے ملازمین کی سینیارٹی جوائننگ کی تاریخ سے نہیں بلکہ میرٹ نمبر سے طے ہوگی، سلیکشن کمیٹی کی سفارشات پر محکمہ مرضی سےجوائننگ لیٹر دے کر سینیارٹی خراب نہیں کر سکتا،جوائننگ کی تاریخ کی بنیاد پر جونیئر کرنا آئین میں دیے گئے برابر کے حقوق کی خلاف ورزی ہے،جوائن کرنے کے لیے ملازم کو 7 دن کا وقت ملتا ہے، اس دوران پہلے یا بعد میں آنے سے سینیارٹی پر فرق نہیں پڑتا، بے روزگاری کے خوف سے ملازم سخت شرائط ماننے پر مجبور ہوتا ہے،محکمہ ملازم کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر قانون نہیں بدل سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے پرانے عدالتی فیصلوں کے اصولوں کو اس کیس پر غلط لاگو کیا۔