سٹی42: قذافی سٹیڈیم کی پچ پر آج لاہور قلندرز اور اورکراچی کنگز کو خاتمے کا سامنا ہے۔ ایک جئے گا ایک مرے گا، ایک جیتے گا، ایک گھر جائے گا؛ کون جئے گا کون مرے گا- کون جیت کر آئی یو کے ساتھ دوسرا پلے آف کھیلے گا، کون ہار کر گھر جائے گا، اس کا دارومدار بیٹرز اور باؤلرز دونوں پر ہے کیونکہ قذافی کی وکٹ دونوں کو برابر موقع دے رہی ہے۔
پی ایس ایل ٹین میں دونوں ٹیموں کی پرفارمنس اور کے کے کی خطرناک ہسٹری یہ تجویز کرتی ہے کہ کنگز لاہور کو ناک آؤٹ کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی بیٹنگ لائن تو سٹرونگ ہے ہی، ان کے پاس حسن علی بھی ہے جو قذافی کی وکٹ پر ابتدائی اوورز میں کچھ بھی کر سکتا ہے اور آخری اوور میں کسی بیٹ کو بھی باندھ سکتا ہے۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کراچی کنگز سے ٹاپ ٹو میں جگہ چرانے کے لیے چار گیمز کے ہارنے کے بعد دوبارہ فارم میں آگئی تھی اور شاید یہ ثابت کر دیا کہ جب وہ چاہیں تو اسے آن کر سکتے ہیں لیکن کوئٹہ گلیڈئیٹرز نے اسلام آباد یونائٹڈ کو بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں آؤٹ کلاس کر کے بتایا کہ وہ بہرحال بہترین ہیں۔
ابتدائی میچوں میں تجربہ اور فارم اور تال کے بارے میں گڑبڑ نے اسلام آباد یونائٹڈ کو ایک موقع پر پلے آف تک رسائی سے بظاہر بھی محروم کر دیا تھا لیکن کنگز کے ساتھ میچ میں 251 رنز کرنے اور پھر انہیں 172 پر آؤٹ کرنے کے بعد پلے آف میں ان کے ساتھ بعینہِ وہی ہوئی جو انہوں نے کے کے کے ساتھ کی تھی۔
اب تک قذافی اسٹیڈیم بیٹرز کے لیے شاندار رہا ہے لیکن اس سال پہلی اننگز میں 100 (89) سے کم اور چار اننگز 160 یا اس سے کم پر ختم ہوئیں جو وکٹ کے باؤلرز کو بھی بہتر ٹریٹ کرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس ترتیب میں کوئٹہ کے خلاف اسلام آباد کا 157 رنز کا مجموعہ بھی شامل تھا جس کا تعاقب ایک گیند باقی تھا اور دو وکٹیں باقی تھیں۔
قذافی میإ ہونے والے حالیہ میچوں میں نو میں سے چھ میچ چیزر نے جیتے ہیں۔ لیکن پہلے پلے آف کا تجربہ آج ٹاس جیتنے والے کیپٹن کو پہلے کھیلنے پر مائل کرے گا۔
کنگز گزشتہ میچ میں یونائیٹڈ کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے ساتھ پلے آف تک آ رہے ہیں تاہم انہیں لاہور قلندرز کے ساتھ گزشتہ میچ میں جیتنے کی نفسیاتی برتری حاصل ہے۔
قذافی بہرحال لاہور قلندرز کا سٹیڈیم ہے، آڈئینس کی سپورٹ ان کے بیٹرز اور باؤلرز کو بوسٹ بہرحال دے گی لیکن ڈیوڈ وارنر اور ان کے ساتھ آنے والے بدیسی بیٹر جیمز وِنس ٹم سیفرٹ کے لئے لاہور، کراچی اور دبئی سب ایک جیسی جگہیں ہیں۔
شان مسعود، عمیر یوسف اور عرفان نیازی کے لئے آج کا میچ پرسنل کلاؤٹ بڑھانے کا آخری موقع ہے۔ ٹیل اینڈرز خوشدل شاہ اور محمد نبی نے گزشتہ میچ میں دو اوورز میں 52 رنز کے اضافے سے جو اعتماد حاصل کیا وہ آج کے کے کو کہیں بھی لے جا سکتا ہے۔
لاہور قلندرز کے شاہین، زمان خان اور حارث رؤف کے لئے قذافی کی وکٹ سے وکٹیں حاصل کرنا آج چیلنج ہے کیونکہ سامنے تین بہترین بیٹر ہوں گے جو مل کر سیسہ پلائی دیوار بھی بن سکتے ہیں۔
حسن علی اور میر حمزہ کو آج بہترین کی سلاٹ حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر قلندروں پر جھپٹنا ہو گا۔
قلندرز کی بیٹنگ لائن کو صدمہ
سکندر رضا کو ٹیسٹ میچ کی وججہ سے آج کا میچ چھوڑنا پڑا۔ جبکہ ڈیوڈ ویز اور سیم بلنگز نے انڈیا کے ساتھ جنگ کے وقفہ کے بعد پی ایس ایل میں واپس نہ آنے کا فیصلہ کیا۔ ان تین بیٹرز سے محرومی نے لاہور قلندرز کی بیٹنگ لائن کو فخر زمان اور عبداللہ شفیق پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کرے گی، ان دو ابتدائی بیٹرز پر دباؤ قلندرز کے لئے اچھا بھی ہو سکتا ہے اور تباہ کن بھی کیونکہ دباؤ بہرحال دباؤ ہے۔
بنگال کا جادو لاہور میں چلے گا؟؟
اپنے کرکٹنگ کیرئیر کے نازک موڑ پر قذافی آ رہے ہیں شکیب الحسن؛ انہیں آج لہوریوں کو بنگال کا جادو دکھانے کا پورا موقع ملے گا، وہ جادو جگا پاتے ہیں یا نہیں، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، ابھی کچھ دیر میں ہم دیکھ لیں گے۔
بنگلہ دیش کے آل راؤنڈر مہدی حسن میراز بھی آج کے پلے آف مین قلندرز کی پلئینگ الیون مین ہوں گے۔ انہین شکیب کے ساتھ خاص طور سے ناک آؤٹ میچوں کے لئے بلایا گیا ہے، اپنی لاہور آمد کو بامعنی اور یادگار بنانے کے لئے دونوں بنگالی بھائیوں نے کچھ بڑا کر دیا تو فراخدِل لہوریوں کا لاہور ان کا دوسرا گھر بھی بن سکتا ہے۔