طاہر جمیل: پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) نے سابق ڈائریکٹر جنرل معظم سپرا کی برطرفی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ عجلت میں کیا گیا اور اس میں اتھارٹی کو بطور فریق شامل نہیں کیا گیا۔
اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق ادارہ اس کیس میں فریق ہی نہیں تھا اور اس کا مؤقف فیصلے سے قبل سنا تک نہیں گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ صوبائی خاتون محتسب کی جانب سے نہ صرف ادارے کا مؤقف نظر انداز کیا گیا بلکہ شکایت کنندہ کے خلاف جاری محکمانہ انکوائریوں کا ریکارڈ بھی طلب نہیں کیا گیا۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جن افراد کے بیانات کی بنیاد پر فیصلہ دیا گیا وہ محکمانہ انکوائریوں میں قصوروار ثابت ہو چکے اور انہیں پیڈا ایکٹ کے تحت ملازمتوں سے فارغ کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف ادارے کے ساکھ پر سوالات اٹھے ہیں بلکہ ملازمین اور دیگر سرکاری افسران میں بھی گہری تشویش پیدا ہو چکی ہے۔ ترجمان نے اسے ایک یکطرفہ اور غیر متوازن فیصلہ قرار دیا ہے جس پر ادارہ جلد قانونی چارہ جوئی پر غور کرے گا۔