سٹی42: اس امر کی تصدیق ہو گئی ہے کہ خضدار میں بچوں کی سکول بس پر بم حملہ خود کش دہشتگردی کا واقعہ تھا ۔ خودکش دہشت گرد دھماکہ خیز مواد سے لدی ہوئی چھوٹی گاڑی میں آیا تھا۔
خضدار حملے کی تحقیقات کرنے والے پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ خود کش دہشتگرد نے گاڑی کو زیرو پوائنٹ پر اسکول کے بچوں کی بس سے ٹکرایا ۔
خودکش دہشتگردی کی شناخت کروانے کے لیے اس کی لاش کے حصوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ۔
اس دہشتگرد حملے میں تین بچیوں اور ایک بچے سمیت 6افراد شہید ہوئے اور طلبا اور طالبات سمیت 36سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔شہید ہونے والوں میں بس ڈرائیور اور اس کا معاون بھی شامل ہے۔
اس حملے مین بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ دھماکے سے دوسری گاڑیوں کے علاوہ سڑک پر موجود دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ خضدار کے سکول کے بچوں پر اس ششقی القلب حملے کے بارے میں مختلف پہلوئوں سے تحقیقات جاری ہیں۔
تحقیقاتی اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے۔
اس سے پہلے
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اس حملے کو ایک اور سفاکانہ اور بزدلانہ کارروائی قرار دیا، جس کی منصوبہ بندی کی گئی اور اسے بلوچستان میں بھارتی ریاست کے حمایت یافتہ دہشت گرد وں کے ذریعے انجام دیا گیا۔
پاک فوج کے ترجمان نے اس بزدلانہ حملے پر ادارہ کے ردعمل میں کہا، میدان جنگ میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد ان بھارتی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت اور بدامنی پھیلانے کے لیے ایسی گھناؤنی کارروائیوں کا سہارا لیا ہے۔
بھارت ’’آپریشن بُنیانن مرسوس‘‘ کا سامنا کرنے میں شرم ناک ناکامی کے بعد اور پاکستان کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان کا سرگرم تعاقب کیے جانے کے بعد اپنے بلوچستان میں موجود پراکسی گروہوں کو پاکستان میں معصوم بچوں اور عام شہریوں جیسے کمزور اہداف کے خلاف دہشت گردی کرنے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اخلاقی طور پر قابل مذمت اور بنیادی انسانی اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ اس بزدلانہ حملے کے ذمہ داروں بشمول منصوبہ سازوں اور حامیوں کا سراغ لگا کر انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جس سے بھارت کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔
پاکستان کی مسلح افواج بہادر پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ، پاکستان سے ہر قسم کی ہندوستانی اسپانسرڈ دہشت گردی کو ختم کرنے کے اپنے عزم میں متحد ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کوئٹہ کا ہنگامی وزٹ، بھارت کی مذمت
وزیر اعظم شہباز شریف نے روایتی حریف بھارت پر حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کا الزام لگایا، دونوں فریقوں کی طرف سے دہائیوں کے سب سے سنگین تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی کے تقریباً دو ہفتے بعد آیا۔