حکومت مشکل کی گھڑی میں بزنس کمیونٹی کیساتھ کھڑی ہے، میاں اسلم

حکومت مشکل کی گھڑی میں بزنس کمیونٹی کیساتھ کھڑی ہے، میاں اسلم

حسن علی: صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے دفتر میں تاجروں ، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی الگ الگ ملاقاتیں کی اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی، ایس اوپیز پر عملدرآمد اور سرمایہ کاری کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 جی او آر ون میں میاں اسلم اقبال سے ہونے والی ملاقات میں چئیرمین پاکستان فٹ وئیر مینو فیکچرز ایسوسی ایشن ایم یونس، ڈائریکٹر فلائنگ ٹشوزقاسم خان، شیپس کے خواجہ ندیم، میاں افتخار اور دیگر شامل تھے۔  میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ عوام کا رش دیکھتے ہوئے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھائے گئے ہیں تاہم تاجروں اور صنعت کاروں کی ذمہ داری ھے کہ ایس اوپیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے کیونکہ کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے معاشرے کے ھر طبقہ کو اپنی ذمہ داری نبھانا ھے۔

ان کا کہنا تھا مک ھمیں خود کو، اپنے بزرگوں، بچوں، دوستوں اور عزیز واقارب کواس بیماری سے محفوظ بنانا ھے اور اسی لئے لوگوں سے بھی باربار اپیل ھے کہ اپنے بچوں کو مارکیٹوں میں نہ لے کر آئیں، احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ھی کرونا کو شکست دی جاسکتی ھے۔

میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایک طرف اپنے لوگوں کو کرونا سے بچانااور دوسری جانب معاشی بد حالی کا سامنا ھے جبکہ حکومت دونوں محاذوں پر دانشمندی سے آگے بڑھ رھی ھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل، اداروں کی محنت اور عوام کے تعاون سے اس آزمائش میں سرخرو ہونگے۔ 

انکا کہنا تھا کہ حکومت کاروباری طبقہ، محنت کشوں اور صنعت کاروں کو درپیش مسائل سے آگاہ ھے جبکہ مشکل کی اس گھڑی میں تاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

خیال رہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے کرونا پھیلتا جارہا ہے۔ پاکستان میں چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 50 افراد جان سے گئے۔ مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 67 ہو گئی۔ سندھ میں 336، پنجاب میں 310، کے پی میں 365، بلوچستان میں 39 اموات، ایک دن میں رکارڈ 2ہزار 603 نئے کیسز آ گئے۔ متاثرین کی تعداد50 ہزار 694 تک جا پہنچی ہے۔