چینی بحران:کس نے کتنا لوٹا؟ تفصیل سامنے آگئی

چینی بحران:کس نے کتنا لوٹا؟ تفصیل سامنے آگئی

سٹی 42: شوگرکمیشن کی رپورٹ سے کسی کو سزا ملتی ہے یا نہیں، یہ تو ابھی معلوم نہیں  لیکن رپورٹ نے کافی حد تک یہ ضرور بتا دیا ہے کہ شوگر مافیا کتنا بااثر ہےاور کس طرح اور کس کس طریقے سے ملک اور عوام کو لوٹ رہا ہے۔

انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق شوگر ملوں نے 6 سال میں جتنا ٹیکس دیا اس سے بھی 30 فیصد زیادہ رقم سرکاری خزانہ سے وصول کر لی، چھ سال میں شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 22 ارب 37 کروڑ 13 لاکھ روپے ٹیکس دیا، لیکن 12 ارب 3 کروڑ 28 لاکھ روپے ٹیکس ری فنڈ بھی کلیم کر دیے، اور صرف پانچ سال میں 29 ارب 22 کروڑ 70 لاکھ روپے کی سبسڈی بھی لے لی۔

رپورٹ کے مطابق رحیم یار گروپ نے چھ سال کے دوران 1 ارب 72 کروڑ 57 لاکھ روپے ٹیکس دیا اور 5 سال میں مجموعی طور پر 4 ارب 14 کروڑ 60 لاکھ روپے سبسڈی لی  جبکہ 1 ارب 34 کروڑ روپے کے ٹیکس ری فنڈ بھی کلیم کیے، جے ڈی ڈبلیو گروپ نے 6 سال میں 2 ارب 72 کروڑ 34 لاکھ روپے ٹیکس دیا جبکہ 3 ارب 59 کروڑ روپے کی سبسڈی لی اور 1 ارب 40 کروڑ 48 لاکھ روپے کے ٹیکس ری فنڈ کلیم کیے۔

اومنی گروپ نے 6 سال میں صرف 64 کروڑ 94 لاکھ روپے ٹیکس دیا اور اس میں سے بھی 18 کروڑ روپے کا ری فنڈ کلیم کیا جبکہ 5 سال میں سرکاری خزانے سے 2 ارب 42 کروڑ 48 لاکھ روپے سبسڈی وصول کر لی، شریف فیملی گروپ نے اس دوران 1 ارب 32 کروڑ 9 لاکھ روپے ٹیکس دیا 46 کروڑ 50 لاکھ کا ری فنڈ اور 1 ارب 1 کروڑ 48 لاکھ روپے کی سبسڈی لی۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کو چینی کی برآمد میں اس حد تک کرپشن ظاہر ہوتی ہے کہ رجسٹریشن ریکارڈ میں 15 ٹن گنجائش والے ٹرکوں میں بھی کاغذات کے مطابق 97 ٹن تک چینی افغنستان پہنچائی جاتی رہی۔