لاک ڈائون میں بچوں کو قیمتی خزانہ مل گیا

لاک ڈائون میں بچوں کو قیمتی خزانہ مل گیا

سٹی 42: لاک ڈائون میں بچوں کو قیمتی خزانہ مل گیا۔

 بی بی سی کے مطابق  شمال مغربی فرانس میں  دو بچوں کے لیے لاک ڈائون بہت ہی زیادہ خوش قسمت ثابت ہوا۔ انھوں نے اپنے دادا دادی کے کمرے میں چھپا ہوا خزانہ ڈھونڈ لیا۔اپنی ایک کھیلنے کی جگہ بنانے کے لیے انھوں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ وہ کیا کچھ استعمال کر سکتے ہیں۔ان کے والد نے کہا کہ وہ اپنے دادا کے کمرے سے شیٹس لے سکتے ہیں جو اب استعمال نہیں ہوتا۔

نیلام گھر کے اہلکار فلیپی راؤلیک نے  بتایا کہ جب وہ شیٹس نکال رہے تھے تو سپرنگس آف لیوینڈرکے بجائے  دو بہت وزنی چیزیں نکل کر زمین پر گر گیئں۔بچوں نے فوراً وہ اشیا واپس اسی جگہ رکھ دیں، لیکن چند گھنٹوں کے بعد انھوں نے اپنی دریافت کے متعلق اپنے والد کو بتایا۔ ان کے والد نے ان سے کہا کہ وہ چیز لے کر آئیں، لیکن پہلے انھیں بھی لگا کہ وہ شاید مذاق کررہے ہیں۔

بعد میں انھوں نے جب ایک نیلام گھر سے اس کا تخمینہ لگانے کا کہا تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ سونے کی اینٹیں ہیں اور ہر اینٹ کا وزن ایک کلو گرام ہے۔ ہر اینٹ کی مالیت 45 ہزار پاؤنڈ بتائی جاتی ہے۔ اگر دونوں اینٹوں  کی مالیت کااندازہ لگایا جائے تو وہ نوے ہزار پائونڈ یعنی ایک  کروڑ77لاکھ 67 ہزار198 پاکستانی روپے بنتی ہے۔نیلام گھر کے ترجمان نے ہنستے ہوئے بتایا کہ بچوں نے اپنے والد سے کہا اب ہم سوئمنگ پول بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔

یاد رہے  کورونا وائرس نے دنیا کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے ،وائرس اپنی تباہ کاریاں روکنے  کا نام نہیں لے رہا۔اب تک 52 لاکھ کیس ہوچکے ہیں،مرنیوالوں کی تعداد تین لاکھ 24ہزار سے زیادہ ہے،جبکہ 18 لاکھ کے لگ بھگ صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔تمام ممالک نے اس کا پھیلائو روکنے کیلئے مختلف بندشیں لگا رکھی ہیں، فضائی آپریشن بند ہیں تو پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی ۔اب آہستہ آہستہ   لاک ڈائون میں نرمی کی جارہی ہے،سروسز کی دکانیں کھولی جارہی ہیں۔