ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی ایف 35 طیارے کو ایران نے کس خفیہ ہتھیار سے اڑایا،کیسے ٹارگٹ پر لیا؟

امریکی ایف 35 طیارے کو ایران نے کس خفیہ ہتھیار سے اڑایا،کیسے ٹارگٹ پر لیا؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) مڈل ایسٹ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کی لڑائی اب 23 ویں دن میں داخل ہو چکی ہے، لیکن گذشتہ جمعرات کو ایران نے کچھ ایسا کر دیا ہے، جو آج تک دنیا کے کسی بھی طاقتور ملک نے نہیں کیا تھا۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے پہلی بار امریکی اسٹیلتھ فائٹر جیٹ F‑35 کو اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم سے نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایران کے خلاف کمبیٹ مشن کے دوران ایک F‑35 کو نقصان پہنچا ہے۔

بھارت کی بڑی اردو ویب نیوز کے مطابق ایران کی سرکاری میڈیا نے اس کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایران کے خلاف کمبیٹ مشن کے دوران ایک F‑35 کو نقصان پہنچا، تاہم طیارہ اور پائلٹ دونوں محفوظ طور پر لینڈ کر گئے۔ لیکن F‑35 کو اب تک ایسا اسٹیلتھ فائٹر سمجھا جاتا تھا، جس کا ٹریک اور ٹارگٹ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اس صورت میں سوال اٹھتا ہے کہ وہ فائٹر پلان، جس کا 360 ڈگری تک نظر ہوتا ہے، جو ایئر ٹو ایئر، ایئر ٹو گراؤنڈ اور جاسوسی مشن انجام دے سکتا ہے، جس کی رفتار 2000 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ، رینج 2200 کلومیٹر سے زیادہ اور تقریباً 8100 کلوگرام وار لوڈ کی صلاحیت ہو، ایران نے اُسے کیسے ٹارگٹ پر لے لیا؟ جو آج تک کبھی دنیا میں نہیں ہوا۔ ایران کے خفیہ ہتھیار نے وہ کر دکھایا ہے۔ ایران نے امریکی غرور کو چکنا چور کرتے ہوئے دنیا میں پہلی بار F-35 فائٹر جیٹ کو نشانہ بنایا۔ ایران کی سرکاری میڈیا کی طرف سے جاری کیے گئے ویڈیو کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ آج تک پانچویں نسل (5th Generation Fighter Plane) کے لڑاکا طیارے F-35 پر حملے کی ایسی تصاویر نہیں آئی تھیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ ایران کے فضائی حدود میں ایرانی فوج نے امریکہ کے سب سے طاقتور فائٹر جیٹ کو اپنے خفیہ ہتھیار سے نشانہ بنایا۔

 ایرانی انقلابی گارڈز کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وسطی ایران کے اوپر ایک کامیاب حملے میں امریکی F‑35 کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ F‑35 کو ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم میں جمعرات صبح تقریباً 2:30 بجے نشانہ بنایا گیا۔ یہ آپریشن 125 سے زائد امریکی اور اسرائیلی ڈرونز کو کامیابی سے روکنے کے بعد کیا گیا۔ ایران کے فضائی دفاعی نظام میں اہم بہتریوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایران نے دنیا کے سب سے جدید اور مہنگے لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ F-35 کے حوالے سے ماہرین کے درمیان تین طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔1۔کسی تیسرے ملک جیسے روس یاچین کی میزائل سے حملہ۔2۔روس کے S‑400 یا S‑500 سسٹم کا شاید ایران نے استعمال کیا ہو، لیکن باضابطہ طور پر ایران کے پاس یہ دفاعی نظام ابھی تک نہیں ہیں۔3۔ ایران کے اپنے جدید نظام خاص طور پر Bavar‑373 یا 358 میزائل کا استعمال کیا ہو؟
متعدد دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران F-35 پر حملہ کرنے کے لیے Bavar‑373 کا استعمال کر رہا ہوگا، جسے چین اور روس کی مدد سے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ ایران نے خاص طور پر F‑35 جیسے اسٹیلتھ جیٹ، گائیڈڈ میزائل اور ڈرونز کو ٹریک اور نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔ ایران اسے روس کے S‑400 اور امریکی THAAD کے برابر صلاحیت والا سمجھتا ہے۔اس کے ایئر ڈیفنس سسٹم میں دنیا کے سب سے مہنگے اور جدید لڑاکا طیارے کو بھی ہٹ کرنے کی صلاحیت ہے۔امریکہ اور اسرائیل ایران کے فضائی حدود پر مکمل کنٹرول نہیں پا سکے ہیں۔مستقبل میں ایران کے آسمان میں آنے والے F‑35 بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔امریکہ– ایران جنگ اور امریکی دعووں پر بھی کئی رپورٹس سوال اٹھاتے ہیں۔  سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ اگر امریکہ جنگ میں اتنا طاقتور ہے تو اس نے 16 فوجی طیارے کیسے گنوا دیے اور تقریباً 4000–5000 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان کیسے ہو گیا؟

رپورٹ کے مطابق ابتدائی 14 دنوں میں امریکہ کے 4 لڑاکا طیارے، جن میں تین F‑15 اور مجموعی طور پر 16 فوجی ایئرکرافٹ، جن میں 4 فائٹر جیٹ + 12 MQ‑9 ریپر ڈرونز تباہ ہو گئے۔ امریکہ ان نقصانات کو ’’غلطی سے ہونے والے حملے‘‘یا ’’حادثہ‘‘بتاتا ہے، جبکہ دوسرے ممالک کے طیاروں کے گرنے کو “جھٹکا” کہتا ہے۔ اسی دوہرے معیار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ KC‑135، F‑15 اور MQ‑9 کی تخمینہ قیمتوں کو ملا کر بتایا گیا ہے کہ صرف طیاروں سے تقریباً 5000 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان ہوا، اس میں ایران کی طرف سے تباہ کیے گئے امریکی رڈار سسٹمز شامل نہیں ہیں۔ ایران نے قطر، یو اے ای، سعودی عرب اور اردن تک پھیلے امریکی رڈار اور ایئر ڈیفنس نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا، جس سے امریکہ کی فوجی عزت پر ضرب پہنچی۔ رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آیا امریکہ اپنی فوجی طیاروں کے گرنے کی اصل وجہ چھپا رہا ہے اور کیا F‑35 پر حملے میں ایران نے کوئی نیا اور زیادہ خطرناک ہتھیار استعمال کیا؟ آخرکار یہ سوال کھلا چھوڑا گیا ہے کہ امریکہ– ایران تنازعہ طویل عرصہ تک جاری رہے گا یا اب کسی فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہا ہے؟ امریکی صدر ٹرمپ کے لیے یہ سب سے بڑا جھٹکا ہے۔ F-35 دنیا کا سب سے جدید اسٹیلتھ فائٹر طیارہ سمجھا جاتا ہے۔