ملک بھر میں وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ

ملک بھر میں وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ

سٹی 42:ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہرکی شدت کا جائزہ لینے کےلئےاین سی اوسی کاجائزہ اجلاس ، ملک بھر میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروانے کیلئے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔

  وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت ہونیوالے این سی او سی اجلاس میں اور بھی کئی اہم فیصلے کئے گئے ۔فیصلوں کی روشنی میں کورونا سے بچاو  کیلئے سخت پروٹوکولز پر عملدرآمد یقینی بنا یا جائے گا ملک بھر میں ہنگامی صورت کے علاوہ نقل وحرکت کی اجازت نہیں ہوگی ، پورے ملک میں ان ڈور ڈائننگ پر مکمل پر پابندی ہوگی جبکہ آﺅٹ ڈور ڈائننگ کی اجازت رات 10 بجے تک ہوگی۔ تمام کمرشل سرگرمیاں رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔

  ہفتہ میں دو روز کاروبار مکمل طور پر بند رکھا جائے گا ، کاروبار کی بندش کے دن کا فیصلہ صوبے کریں گے ، آوٹ ڈور تقریبات میںمیں تین سو افراد کے اجتماع کی اجازت ہوگی ۔ تمام ثقافتی، میوزیکل اور مذہبی ان ڈور سرگرمیوں پر پابندی ہوگی ۔سینما اور مزارات مکمل طور پر بند رہیں گے تاہم تمام تفریحی پارک بند ، واکنگ اور جوگنگ ٹریکس ایس او پیز کے ساتھ کھلے رہیں گے، این سی او سی کے فیصلے کے مطابق سرکاری و نجی اداروں اور عدالتوں میں 50 فیصد عملے کے ساتھ کام جاری رکھنے کی پالیسی برقرار رہے گی ،شہروں کے درمیان ٹرانسپورٹ 50فیصد سواریوں کے ساتھ مشروط ہوگی، ریل سروس 70 فیصد استعداد کے ساتھ جاری رکھی جائے گی ۔

انفورسمنٹ کیلئے لئے گئے اقدامات کے دوران ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا، گلگت بلتستان ،خیبر پحتونخوا اورآزاد کشمیرکے اور دیگر سیاحتی مقامات پر کورونا پروٹوکولز پر سختی سے عملدرآمدا کرایا جائے گا۔ سیاحتی مقامات پر داخلے کیلئے مخصوصی انٹری پوائنٹ بنائے جائیں گے ، کورونا کی خلاف ورزی پر ہونے والی سزاؤں کی تشہیر کی جائے گی۔

 اجلاس میں کئے گئے فیصلے 11 اپریل تک نافذ العمل رہیں گے۔ فیصلوں پر نظر ثانی کیلئے این سی او سی کا اجلاس 7 اپریل کو بلایا جائے گا۔ تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے اجلاس 24 مارچ کو ہوگا۔

دریں اثنا اسد عمر کی جانب سے بذریعہ ٹویٹر پیغام میں کہا گیا کہ کورونا مثبت شرح کی وجہ بننے والی سرگرمیوں پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسلام آباد اور صوبائی انتظامیہ کو ایس او پیز مزید سخت کرنے کی ہدایات دی گئیں ہیں۔