این سی اوسی کااہم اجلاس؛ پابندیوں میں اضافے کا فیصلہ

این سی اوسی کااہم اجلاس؛ پابندیوں میں اضافے کا فیصلہ

سٹی 42: ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہرکی شدت کا جائزہ لینے کےلئےاین سی اوسی کاجائزہ اجلاس ، ملک بھر میں کورونا ایس او پیز  پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات, این سی او سی کا خصوصی اجلاس ، وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی اجلاس میں اہم فیصلےکیے گئے، اسد عمر کی جانب سے بذریعہ ٹویٹر پیغام ایس او پیز مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا۔ اسد عمر نے کہا کہ کورونا مثبت شرح کی وجہ بننے والی سرگرمیوں پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسلام آباد اور صوبائی انتظامیہ کو ایس او پیز مزید سخت کرنے کی ہدایات دی گئیں ہیں۔

ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کی صورت میں کریک ڈاؤن کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

ادھر وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے ٹویٹ کرتےہوئے کہا ہے کہ صحت اورتعلیم کےوزراکااجلاس24مارچ کواین سی اوسی میں ہوگا۔ اجلاس میں تعلیمی ادارے کھلے یا بند رکھنے سے متعلق فیصلہ ہوگا۔ وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ بچوں،اساتذہ اورعملےکی صحت اولین ترجیح ہے۔جبکہ دوسری طرف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کردیا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہوراوردیگر نمائندہ تنظیموں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، پریس کانفرنس سے خطاب میں پروفیسر اشرف نظامی کا کہنا تھاکہ ملک میں مکمل لاک ڈاؤن لگایاجائے اور عوام کوویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فی الفورملک بالخصوص پنجاب میں ہنگامی حالت نافذ کرے۔ ان کا کہنا تھاکہ حکومت نے تنظیموں اوراداروں کے دباؤپرلاک ڈاؤن پالیسی کو اپنایا جبکہ اس وقت ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔

پروفیسراشرف نظامی نے الزام عائد کیا کہ حکومت ویکسین کی فراہمی میں مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوئی ہے۔دوسری طرف چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ ہم نے تجاویز دی ہیں کہ مسجد میں کم سےکم لوگ آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ بڑی عمر کے لوگ مسجد نہ آئیں تو بہتر ہے، تجویزدی ہے کہ جمعہ کا خطبہ مختصر پڑھا جائے۔