پنجاب میں پی سی پی ایئرگن کے استعمال پر پابندی عائد

Air Gun use banned
Air Gun

علی رامے: محکمہ وائلڈ لائف نے  جنگی حیات بچانے کے لئے اہم اقدام اٹھا لیا۔ شکار کے لیے استعمال ہونے والے پی سی پی (پری چارجڈ نیومیٹک) ایئر گن پر مکمل پابندی ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ وائلڈ لائف نے  پی سی پی ایئرگن کے استعمال پر پابندی عائد  کردی ہے۔ پنجاب میں اب شوٹنگ لائسنس صرف ان اسلحہ لائسنس مالکان کو جاری کیاجائے گا جن کے پاس شاٹ گن لائسنس ہو گا۔ شکار کے لیے سی او  2 اور سائلنس گن پر بھی پابندی ہو گی۔ پی سی پی گنز انتہائی جدید ٹیکنالوجی کی حامل ہیں اور سیمی آٹو میٹک اور بنا آواز ہونے کی وجہ سے شکاری کسی ایک جگہ بیٹھے متعدد پرندوں کو نشانہ بنا لیتے ہیں کیونکہ گن چلنے سے کسی قسم کی آواز پیدا نہیں ہوتی۔

محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے حکومت پنجاب نے یہ پابندی لگائی کیونکہ پی سی پی ائیر گن کا استعمال پنجاب میں بڑھتا جارہا تھا۔ ان گنز کو اب قانون میں ترامیم کے بعد شکار کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ایک اسلحہ ماہر نے بتایا کہ ایئرگنز تین طرح کی ہوتی ہیں، ایک ایئر گن سپرنگ والی ہوتی ہے جو عام ہے جبکہ دوسری ایئر گن کو سلنڈر والی گن کہا جاتا ہے جس میں کاربن گیس کا سلنڈر ڈال کر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ تیسری اور سب سے طاقتور و خوفناک ایئر گن ’’پی سی پی‘‘ ہے جو نہایت طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ بغیر آواز کے ہوتی ہے۔

چین سے امپورٹ کی جانے والی یہ گن سستی ہے جبکہ یورپ یا دیگر ممالک کی تیار کردہ پی سی پی ایئر گن کی قیمت 25 ہزار سے 5 لاکھ تک ہے۔ یاد رہے جاپان اور کینیڈا میں ایئرگن اپنے پاس رکھنے کے لیے لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بھارت نے بھی حال ہی میں اپنے قانون میں ردوبدل کرتے ہوئے ملک میں ایئرگن رکھنے کی ایف پی ایس حد متعین کر دی ہے۔