ویب ڈیسک: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں، تاہم اگر تہران بات چیت پر آمادہ ہوا تو واشنگٹن بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد متعدد آئل ٹینکرز نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی عالمی منڈی کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
ادھر ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج نے ایران میں کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جنگ بندی کی تجاویز زیر غور ہیں، تاہم تاحال کسی بڑی سفارتی پیش رفت کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
مسلسل کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات برقرار ہیں۔