ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ڈیگاڑی قتل کیس: سینئیر حکام کی چیف جسٹس آف بلوچستان کے روبرو پیشی

Degari Murder case, honour killing, Baluchistan crimes
کیپشن: ڈیگاری مین خاتون اور مرد کے قتل کے واقعہ کی ویڈیو سے لیا گیا سکرین شوٹ۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   چیف جسٹس آف بلوچستان نروزی خان بڑیچ نے ڈیگاری قتل کیس کےضمن میں صوبہ کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو طلب کر لیا۔  ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور ایڈیشنل آئی جی آج کوئٹہ مین بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جٹس کے روبرو پیش ہوئے اور اس سنگین جرم کی اب تک تحقیقات کی تمام تفصیل چیف جسٹس کو پیش کی۔

  سویلین انتظامیہ کے ذمہ دار حکام نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کو  ڈیگاری قتل کیس میںاب تک کی گئی تحقیقات،گرفتاریوں اور مقتول خاتون اور مرد کی قبرکشائی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ 
 بلوچستان کے علاقے سنجیدی ڈیگاری میںایک خاتون اور مرد کے  قتل کی ویڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر پھیل گئی تھی جس کے بعد صوبہ کی پولیس اور حکومت نے اس سنگین جرم کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور برق رفتار تحقیقات کر کے کچھ مجرموں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ آج اس سنگین جرم پر اب تک ہونے والی تحقیقات اور قانونی کارروائی کی مفصل رپورٹیں لے کر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور ایڈیشنل آئی جی پولیس چیف جسٹس کے روبرو پیش ہوئے۔

ایس پی سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ اور ڈیگاری قتل کیس کے تفتیشی افسر  بھی چیف جسٹس کے روبرو پیش ہوئے۔

تفتیشی افسر  نے  چیف جسٹس کو کیس کی اب تک تحقیقات، گرفتاریوں اور قبرکشائی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

 بلوچستان کے علاقے سنجیدی ڈیگاری میں ایک مرد و خاتون  کو "سزا" دینے کے لئے  فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ اس کولڈ بلڈڈ قتل کے واقعہ کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر پھیل گئی تو نام نہاد غیرت کے تحفظ کے نام سے کئے گئے اس غیر انسانی جرم کے خلاف عوام نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس قتل کا فوری نوٹس لیا اور پولیس کو برق رفتار تحقیقات کر کے ویڈیو میں قتل کرتے ہوئے دیکھے گئے افراد کی گرفتاری کا حکم دیا۔ اس ویڈیو میں قتل کی جگہ اور کوئی تفصیل سامنے نہیں تھی لیکن پولیس جب تحقیقات کرنے پر آئی تو اس نے نہ صرف قتل کے مقام کا سراغ لگا لیا بلکہ مقتولوں کی قبروں کا بھی پتہ لگا لیا اور اس بہیمانہ قتل میں ملوث افراد میں سے کچھ کو گرفتار بھی کر لیا۔ 

کوئٹہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے قتل ہونے والی خاتون کی قبر کشائی کا حکم جاری کیا تھا۔

عدالتی احکامات کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں خاتون کی قبر کشائی کا عمل مکمل کیا گیا تاکہ قانونی کارروائی کے لئے درکار ضروری شواہد  کو محفوظ رکھا جاسکے۔

پولیس نے مجرموں کی نشاندہی ہونے کے بعد تحقیقات کر کے بتایا کہ ڈیگاری میں مرد اور عورت کے قتل میں ملوث 20 افراد  کا اہم کردار ہے۔

پولیس کے مطابق تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے، اب تک 20 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میںخاتون پر فائرنگ کرنے والا شخص بھی شامل ہے۔

واقعے کا مقدمہ حنا اورک پولیس اسٹیشن میں درج کرلیا گیا ہے۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ روزی خان بڑیچ نے اپنے طور پر اس  واقعہ کا نوٹس لیا تھا اور  ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور  آئی جی پولیس کو طلب کیا تھا۔ 

 گزشتہ روز پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر کہا جاتا رہا کہ نوبیاہتا جوڑا تھا لیکن ایسا نہیں تھا، مقتولین کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا۔ خاتون پانچ بچوں کی ماں تھی، قتل ہونے والے مرد کے بھی بچے ہیں۔