تذبذب کا شکار”نگران“ بیوروکریسی اور الیکشن

تذبذب کا شکار”نگران“ بیوروکریسی اور الیکشن
City42 - Qaiser Khokhar

(قیصر کھوکھر) پنجاب کی نگران بیوروکریسی اس وقت ایک عجب کنفیوژن کا شکار ہے ۔ آپس میں ملتے وقت بھی پریشان دکھائی دیتی ہے اور ان کا مورال گر چکا ہے ۔ یہ افسران مسلم لیگ ن کی دھمکیوں سے خاصے مرعوب ہو چکے ہیں، کیونکہ مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے واضح طور پر نگران افسر شاہی کو دھمکی دی ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے خلاف انتقامی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے ورنہ اقتدار میں آ کر وہ بدلہ لیں گے۔

 اس صورتحال میں نگران افسر شاہی کے حوصلے پست ہو چکے ہیں۔ یہ نگران افسران آپس میں کہتے سنے گئے ہیں کہ وہ قربانی کا بکرا کیوں بنیں، کیوں کہ ابھی تک ملک کے مقتدر حلقوں نے انہیں براہ راست کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا، یہ چانس بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کل کلاں مسلم لیگ ن کی ماضی کی طرح اداروں کے ساتھ پھر ڈیل بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے لئے شہباز شریف کوشش بھی کر رہے ہیں۔ موجودہ نگران افسر شاہی نے مسلم لیگ ن کی حکومت کے ساتھ مکمل طور پر ماضی میں کام نہ کیا ہے اور اگر کسی افسر نے کام کیا بھی ہے تو وہ غیر اہم اور غیر موثر اسامیوں پر کام کیا ہے۔ اب یہ افسران اہم اسامیوں پر تعینات ہو کر الیکشن کرا رہے ہیں اور وہ مین اسٹریم میں ہیں۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے نگران وزیر اعلیٰ اور” نگران“ افسر شاہی کو مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ جس سے یہ لوگ مکمل طور پر کنفیوژن کا شکا ر ہو کر رہ گئے ہیں۔ کہا اور سنا جاتا ہے کہ وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے روشن امکانات ہیں جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ وفاق میں انہیں کسی بھی صورت حکومت نہیں ملے گی وہ سارا زور پنجاب کی حکومت حاصل کرنے کے لئے لگا رہے ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت واپس آنے پر موجودہ نگران افسر شاہی کا مستقبل کیا ہوگا ۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے جو کہ آج کل بیوروکریسی کے حلقوں میں زیر بحث ہے۔ اس وقت الیکشن میں کئی عوامل کام کر رہے ہیں ۔

 کچھ عوامل سامنے ہیں اور کچھ عوامل پس منظر میں ہیں۔ اس وقت افسر شاہی آزادی کے ساتھ کام نہیں کر پا رہی ہے اور مکمل طور پر پریشان دکھائی دے رہی ہے۔ نگران بیوروکریسی کو اپنے اوپر اعتماد نہ ہے اور وہ میڈیا والوں سے یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ پنجاب میں اگلی حکومت کس کی ہوگی اور کون وزیر اعلیٰ بنے گا۔؟ شاید یہی وجہ ہے کہ اضلاع میں کام کرنے والے ڈی پی او زاور ڈپٹی کمشنروں نے مسلم لیگ ن کے خلاف” ہاتھ ہولا“ رکھنا شروع کر دیا ہے ۔

پنجاب سول سیکرٹریٹ اور آئی جی پولیس کی ہدایات کو میرٹ پر ہی لے رہے ہیں، کیونکہ ان نوجوان افسروںکو پتہ ہے کہ انہوں نے پنجاب میں ہی نوکری کرنی ہے جبکہ اعلیٰ نگران افسر شاہی تو وفاق میں چلی جائے گی پھر ان کا کیا بنے گا۔؟ ان حالات میں افسر شاہی سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی بھی دباو میں کام کرے گی۔ اس وقت پنجاب میں پی ٹی آئی کا اعتماد بہت زیادہ بڑھ چکا ہے لیکن اس بڑھتے ہوئے اعتماد کے ساتھ پنجاب کی مڈل اور لوئر افسر شاہی پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں دے رہی ۔ پیپلزپارٹی الگ سے پنجاب کے بارے میں گلے شکوے کر رہی ہے۔

پنجاب کی نگران افسر شاہی کا یہ موقف ہے کہ وہ وہی کر رہے ہیں جو انہیں نگران حکومت ہدایات دے رہی ہے وہ مکمل طور پر غیر جانبدار رہ کر کام کر رہے ہیں ۔ لیکن یہ واضح ہو چکا ہے کہ اگر پنجاب میں ن لوگ کی حکومت بنی تو موجود سار ی کی ساری انتظامیہ کو تبدیل کر دیا جائے گا۔ لیکن موجودہ انتظامیہ اور نگران افسر شاہی کو یہ بھی یقین دلایا جا رہا ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت بنے گی اور چیف سیکرٹری پنجاب ، آئی جی پولیس سمیت کسی بھی ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹری، کمشنر یا ڈی سی اور پولیس افسران کو تبدیل نہیں کیا جائے گا ۔

وہ دیدہ دلیری کے ساتھ مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف کام جاری رکھیں۔ اس دونوں طرف کے دعووں کے برعکس افسر شاہی بدستور عجب کنفیوژن کا شکار ہے، اور کسی بھی سیاسی جماعت کے دعوے پر اعتماد کرنے پر تیار نہیں اور پریشان ہے کہ ان کا الیکشن کے بعد مستقبل کیا ہوگا؟ کیونکہ خاص طور پر پنجاب کی نگران انتظامیہ نے جو مسلم لیگ ن کے خلاف کریک ڈاون کیا ہے، پکڑ دھکڑ کے نام پر مقدمات قائم کئے ہیں اور نظر بندیاں کی ہیں اسے درست اقدام نہیں کہا جا سکتا ہے، کیونکہ ایک جماعت کو فری ہینڈ دینا اور دوسری جماعت کے کارکنوں کو نظر بند کرنا، ایک انتقامی کارروائی ہی کہی جا سکتی ہے۔

اس ساری صورتحال میں کئی افسران درپردہ مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت کے ساتھ رابطے میں بھی ہیں اور انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ وہ صرف میرٹ پر کام کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف کسی بھی کارروائی کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ فیصلہ 25جولائی ہی کرے گی کہ موجودہ نگران افسر شاہی کا پنجاب میں کیا مستقبل ہے ۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور کون کون نئی حکومت بننے پر پنجاب میں رہتا ہے اور کس کس کو پنجاب سے” دیس نکالا“ملتا ہے۔ لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جو بھی حکومت بنتی ہے وہ ماضی کی بیوروکریسی کو تبدیل ضرور کرتی ہے، اور اپنی مرضی اور اپنے اعتماد کی بیوروکریسی کو کلیدی اسامیوں پر تعینات کرتی ہے۔ پہلے والی حکومت کی آزمائی ہوئی افسر شاہی پر اعتماد نہیں کرتی ہے۔ لہٰذا موجودہ نگران بیوروکریسی کو یہ فارمولا ضرور یاد رکھنا چاہئے اور ان کی بقا اور سالمیت صرف اور صرف اسی میں ہے کہ وہ صرف اور صرف میرٹ پر کام کریں اور فیئر اینڈ فری اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنائیں۔ انتخابات شفاف ہوگئے توآنیوالی حکومت کی نظرمیں ان کی قدر ہوگی بصورت دیگر دھاندلی کا الزام بیوروکریسی کے سرآنے کا بھی امکان ہے۔ اس حوالے سے افسران کو ہرقدم پھونک پھونک کررکھنا ہوگا۔

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر