ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں گندم کی قلت، رمضان سے قبل آٹے کی فراہمی پر دباؤ کا خدشہ

پنجاب میں گندم کی قلت، رمضان سے قبل آٹے کی فراہمی پر دباؤ کا خدشہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 علی رامے: پنجاب میں گندم کی قلت کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کر گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبے کو آئندہ تین ماہ کے دوران 17 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درکار ہے، جبکہ اس وقت دستیاب ذخائر صرف 14 لاکھ 96 ہزار میٹرک ٹن ہیں۔ اس طرح صوبے کو 2 لاکھ 53 ہزار 936 میٹرک ٹن گندم کی واضح کمی کا سامنا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق فلور ملز کے پاس 7 لاکھ 84 ہزار میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جبکہ محکمہ خوراک کے گوداموں میں 7 لاکھ 12 ہزار میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔ سپلائی اور طلب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران گندم کی قلت کے باعث آٹے کی دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ پرائس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے گندم کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ بحران سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت رمضان سے قبل گندم کی قلت سے نمٹنے کے لیے جلد اہم فیصلہ کرنے کا امکان رکھتی ہے۔