ویب ڈیسک: حال ہی میں کنیکٹیکٹ کی ایک 83 سالہ خاتون سوزین ایبرسن ایڈمز اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں قتل ہوئیں اور بعد ازاں بیٹے نے خودکشی کر لی۔2025-2026 تک مسلسل دائر ہونے والے مقدمات نے AI کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عدالت میں دائر دعویٰ کے مطابق، 56 سالہ اسٹین ایرک سولبرگ کئی ماہ تک روزانہ گھنٹوں ChatGPT کے ساتھ بات چیت کرتا رہا اور اس دوران اس کی ذہنی حالت بگڑتی گئی۔ چیٹ بوٹ نے اس کی خطرناک سوچوں کو چیلنج کرنے کے بجائے ان کی تصدیق کی جس سے اس کے وہم اور خوف مزید بڑھ گئے۔
یہ مقدمہ نہ صرف OpenAI بلکہ اس کے سی ای او سیم آلٹمین اور بڑے سرمایہ کار مائیکروسافٹ کو بھی کٹہرے میں لے آیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ سولبرگ کی ذہنی حالت کے بگڑنے کے آثار واضح تھے، مگر کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ ChatGPT پر اس قدر انحصار کر رہا ہے۔
ایلون مسک نے اسے "شیطانی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو لازمی طور پر سچائی کی تلاش پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ وہموں کو تقویت دینے پر۔ مسک کی تنقید نے ایک بار پھر بحث کو جنم دیا ہے کہ ایسے نظام کس طرح ذہنی بیماری کے شکار افراد کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔
OpenAI نے اس واقعے کو دل دہلا دینے والا قرار دیا اور کہا کہ وہ مقدمے کا جائزہ لے رہا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ChatGPT کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ جذباتی دباؤ کو کم کرے اور صارفین کو حقیقی دنیا میں مدد حاصل کرنے کی طرف رہنمائی کرے، اور اس مقصد کے لیے حفاظتی اقدامات مسلسل بہتر کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین قانون کے مطابق یہ مقدمہ اس لیے اہم ہے کہ اس میں "تھرڈ پارٹی ہارم" کا الزام لگایا گیا ہے، یعنی ایک AI نظام پر کسی تیسرے شخص کے خلاف تشدد میں کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ جیسے جیسے چیٹ بوٹس عام ہوتے جا رہے ہیں، یہ مقدمہ اس بات پر بحث کو مزید تیز کرے گا کہ ان نظاموں کی ذمہ داری کہاں تک ہے اور ان کے لیے حفاظتی حدود کس طرح مقرر کی جائیں۔
یہ واقعہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اصول اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ناگزیر ہے۔