(عمر اسلم) پنجاب یونیورسٹی میں 2 طلبا تنظیموں کے درمیان ہونے والا تصادم خطرناک صورت اختیار کر گیا، مشتعل طلبا کے پتھرائو سے 2 ایس ایچ او زخمی ہوگئے۔ پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا ، دوسری جانب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او امین وینس سے رپورٹ طلب کر لی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں دو طلبا تنظیموں کے درمیان پائنیئر فیسٹیول کے معاملے پر جھگڑا ہوا، طلبا نے پھترائو کیا اور پائنیر فیسٹیول کے انتظامات تہس نہس کردیئے، دونوں تنظمیوں کے درمیان تصادم سے یونیورسٹی میدان جنگ کا منظر پیش کرتی رہی، پولیس کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آنسو گیس اور شیلنگ سے مظاہرین کو منتشر کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے پنجاب یونیورسٹی میں طلبا کے تصادم کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی، انہوں نےواقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تصادم کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
دوسری جانب پنجاب یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی کرنے والے طلبا کے خلاف کارروائی کیلئے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے،سی سی پی او امین وینس اور ڈی آئی جی آپریشنز نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملاقات کی اور پنجاب یونیورسٹی میں طلبا کی ہنگامہ آرائی کے معاملے پر گفتگو کی۔ اس موقع پر سی سی پی او امین وینس کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں تصادم کرنے والے بچ نہیں سکیں گے، یونیورسٹی جن کے نام دے گی اُنہیں گرفتار کریں گے۔