ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

رمضان میں ورزش کرنا صحت کیلئے نقصان دہ یافائدہ مند؟

رمضان میں ورزش کرنا صحت کیلئے نقصان دہ یافائدہ مند؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حد سے زیادہ اور طویل دورانیے کی سخت ورزش سرخ خون کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور ان میں قبل از وقت بڑھاپے جیسی علامات پیدا کر سکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق، 25 میل یا 106 میل کی دوڑیں خون کے سرخ خلیات کی لچک کم کر دیتی ہیں اور آکسیڈیٹو اسٹریس اور سوزش بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔

رمضان میں ورزش: کیا کرنا چاہیے؟

ماہرین کے مطابق رمضان میں ورزش کرنا صحت کے لیے فائدہ مند ہے، مگر اعتدال ضروری ہے۔ خاص طور پر روزہ کے دوران جسم پانی اور غذائی اجزاء کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے، لہٰذا زیادہ سخت یا طویل ورزش نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

سب سے بہتر وقت:

سحری کے فوراً بعد ہلکی سے معتدل ورزش جیسے 20–30 منٹ کی چہل قدمی یا ہلکی دوڑ مفید ہے۔

افطار کے 1–2 گھنٹے بعد غذائیت اور پانی کی دستیابی کے بعد تھوڑی زیادہ شدت والی ورزش کی جا سکتی ہے، مگر انتہائی دوڑ یا لمبی ریسز سے گریز کریں۔

ورزش کی شدت اور دورانیہ:

ہفتے میں 150 منٹ معتدل رفتار کی ورزش مثالی ہے۔

افطار کے بعد 20–40 منٹ کی دوڑ یا چہل قدمی صحت مند رہنے میں مددگار ہے۔

زیادہ سخت یا طویل ورزش سے سرخ خون کے خلیات متاثر ہو سکتے ہیں، اور خون کی کمی یا تھکن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

سائنسدانوں کی رائے:
تحقیق کے مطابق انتہائی برداشت والی ورزش سرخ خون کے خلیات کو تیزی سے بڑھاپے کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس سے خون کی روانی اور توانائی متاثر ہوتی ہے۔ معتدل ورزش صحت کے لیے فائدہ مند ہے، مگر رمضان میں اعتدال اور مناسب غذائیت کی رعایت ضروری ہے۔